سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 340

سيرة النبي عمال 340 جلد 3 رسالت کا منصب دیتا ہے۔تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہیں بھی وہی کچھ ملنا چاہئے جو رسولوں کو ملتا ہے کیا تم اپنی حالت کو نہیں دیکھتے۔تم تو گندے ہو اور گندوں کو ذلت ہی ملا کرتی ہے۔رسالت تو بہت بڑی عزت ہے یہ پاک اور اعلیٰ پایہ کے انسان کو ملتی ہے۔تم کو تو تمہارے مکروں کی وجہ سے عذاب ملے گا۔اللہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کیلئے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے۔وہ نیک کام کرتے وقت یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔جولوگ ایمان نہیں لاتے اللہ تعالیٰ اسی طرح ان سے سلوک کرتا ہے۔اس میں بتایا کہ (1) رسول بناتے وقت اللہ تعالیٰ اس آدمی کو دیکھتا ہے کہ وہ کیسا ہے۔پس مجرموں کو رسالت نہیں مل سکتی انہیں تو ذلت ملے گی۔رسالت تو بڑی بھاری عزت ہے۔(2) جو رسول بنتا ہے وہ پہلے بھی اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے۔الہی احکام کی فرمانبرداری اس کی طبیعت میں داخل ہوتی ہے اور نیک تحریکوں کو قبول کرنے میں وہ پیش پیش ہوتا ہے۔یہ گویا قرآن نے گر بتایا کہ انبیاء کی پہلی زندگی اعلیٰ ہونی چاہئے۔بیشک ایک ایسا ص ولی ہوسکتا ہے جو ایک زمانہ تک عیوب میں مبتلا رہا ہو اور بعد میں اس نے تو بہ کر لی ہو۔لیکن نبوت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ہی خاص طور پر اعلیٰ درجہ کی طہارت اسے حاصل ہو۔(2) اور نبوت کی زندگی کے متعلق فرمایا فَالَّذِينَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْتَمُوْنَ 4 جن لوگوں کو خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے وہ رات دن اپنے اعمال سے دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا پاک ہے۔یعنی انہیں جس قدر قرب عطا ہو اسی قدر وہ فرمانبردار ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اپنے ہر عمل سے ظاہر کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ خدا نے یونہی انہیں نہیں چنا۔گویا وہ اپنے اعمال سے خدا تعالیٰ کی پاکیزگی ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ خدا نے غلط انتخاب نہیں کیا۔