سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 342

سيرة النبي علي 342 جلد 3 الله ہو کہتا بلکہ رسول کریم ﷺ کے منہ سے کہلواتا ہے تا کہ دنیا کے لئے ایک چیلنج ہو۔گویا اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک چیلنج دیا اور کہا ان سے کہو ) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے اور تمہارے دل میں تڑپ ہے کہ اس کے محبوب بن جاؤ تو آؤ میں تمہیں ایسا گر بتاؤں کہ تم عاشق ہو کر معشوق بن جاؤ اور وہ یہ ہے کہ فَاتَّبِعُونِی جس طرح میں کام کرتا ہوں تم بھی کرو۔یہاں اَطِیعُونِی نہیں فرمایا بلکہ فَاتَّبِعُونِی فرمایا ہے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو جیسے محمد رسول اللہ و عمل کر رہے ہیں ویسے ہی تم بھی کرو۔یہ نہیں فرمایا کہ محمد رسول اللہ ہے جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو۔اس جگہ اتباع کا لفظ ہے جس کے معنی ”قفی اثرہ کے ہوتے ہیں یعنی اس کے نقش قدم پر چلا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے اطاعت کا لفظ تو آتا ہے مگر اتباع کا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ شرائع سے بالا ہے۔لیکن رسول کیلئے اتباع اور اطاعت دونوں الفاظ آتے ہیں۔یعنی وہ حکم بھی دیتا ہے اور ان پر خود بھی عمل کرتا ہے۔پس فَاتَّبِعُونی کے یہ معنی ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اطاعت الہی سے محبوب الہی بن گیا ہوں اگر تم بھی میرے جیسے کام کرو گے تو تم بھی محبوب الہی بن جاؤ گے۔گویا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کا دوسرا نام رسول کریم علیہ کے اعمال رکھا ہے۔66 اس کے بعد میں ان بعض اعتراضات مخالفین اسلام کے اعتراضات کا رڈ صلى الله کو لیتا ہوں جو رسول کریم ﷺ کی ذات پر کئے گئے ہیں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح قرآن کریم نے ان کو رد کر کے آپ کے بے عیب اور کامل ہونے کو ثابت کیا ہے۔کیونکہ قرآن نے رسول کریم ﷺ کی پاکیزگی ثابت کرنے کا فرض خود اپنے ذمہ لیا ہے کسی بندہ پر نہیں چھوڑا۔پہلا اعتراض جو رسول کریم ﷺ کی زندگی پر ہو سکتا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے دعوی کے موجبات و محرکات کیا تھے ؟ یا یہ کہ قرآن پیش کرنے کا اصل باعث کیا تھا ؟ کوئی کہتا آپ نَعُوذُ بِاللہ پاگل ہیں کوئی کہتا اسے جھوٹی خواہیں آتی ہیں، کوئی کہتا ساحر ہیں، الله