سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 339

سيرة النبي عمال 339 جلد 3 حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن یعنی رسول کریم ﷺ کے اخلاق کے متعلق قرآن کو دیکھ لو۔آپ کے تمام اخلاق قرآنی معیار کے مطابق تھے۔پس قرآن کریم یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے کم از کم ایک شخص اپنے معیار کے مطابق پیدا کر لیا ہے اس لئے ہم اس کی تعلیم کے متعلق یہ شبہ نہیں کر سکتے کہ (1) وہ قابل عمل نہیں (2) یا یہ کہ اس نے اپنے لانے والے کی اصلاح نہیں کی تو دوسروں کی کیا کرے گا۔کیونکہ محمد علیہ نے اس پر عمل کیا اور اعلیٰ درجہ کے انسان بن گئے۔پس کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ قرآن نے لانے والے کو کیا فائدہ پہنچایا کہ ہمیں پہنچائے گا۔میں نے جو یہ بتایا ہے کہ الہامی کتاب کی افضلیت کی یہ بھی دلیل ہے کہ اس کا لانے والا دوسروں سے افضل ہو یہ بھی قرآن خود ہی بیان کرتا ہے۔اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کی پہلی زندگی بھی پاک اور کامل ہونی چاہئے اور دعوی کے بعد کی زندگی بھی مطابق وحی ہونی چاہئے۔پہلی زندگی کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا۔وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَنْ نُّؤْ مِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ - فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَّهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۚ وَمَنْ يُرِدْ اَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَضَعَدُ فِي السَّمَاءِ كَذَلِكَ يَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 3 - فرمایا: 'ان لوگوں کے سامنے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوئی نشان پیش کرتا ہے تو کہتے ہیں ہم کبھی نہیں مانیں گے جب تک ہمیں وہی کچھ نہ ملے جو اللہ کے رسولوں کو ملا۔یعنی وحی اور الہام۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ہر ایک پر وحی رسالت نازل کی جائے۔اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کسے رسول بنانا چاہئے۔وہ اس کے احوال، اس کے افکار اور اس کے عادات دیکھتا ہے۔جو سب سے اعلیٰ ہو اسے