سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 320
سيرة النبي عمال 320 جلد 3 غریبوں کا حق ہے۔فاطمہ آپ کی پیاری بیٹی تھیں اور آپ کی اولاد میں سے صرف وہی زندہ رہیں۔پھر اس کے علاوہ آپ ایسی نیک خو تھیں کہ جس کی مثال چراغ لے کر ڈھونڈیں تو نہ مل سکے گی۔وہ نہایت افسردگی کی حالت میں آپ کے پاس آتی اور اپنے ہاتھوں میں چھالے جو چکی پینے کی وجہ سے پڑ گئے تھے دکھاتی ہیں اور عرض کرتی ہیں کہ اب اس قدر مال و دولت آ رہی ہے ایک غلام یا لونڈی مجھے بھی دی جائے جو مجھے مدد دیا کرے۔آپ جواب میں فرماتے ہیں کہ فاطمہ آؤ اس سے بہتر چیز تمہیں دوں اور چند کلمات سکھا دیتے ہیں 13۔میں پوچھتا ہوں دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو ایسے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔نرینہ اولا د تو آپ کی فوت ہو چکی تھی اور اس لحاظ سے گویا آپ بے اولاد تھے۔صرف ایک فاطمہ باقی تھی وہ ایسی تکلیف کا اظہار کرتی اور آپ یہ جواب دیتے ہیں۔کیا اس سے یہ ثابت نہیں کہ آپ ہر حالت میں بے نظیر انسان تھے؟ دشمنوں کے ظلم سہنے میں بھی آپ نے کمال دکھایا۔لوگ پتھر مار مار کر خون آلود کر دیتے ہیں، آپ پر لا کر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دیتے ہیں، جب آپ طائف میں تبلیغ کے لئے گئے تو مکہ والوں نے انہیں پہلے ہی کہلا بھیجا کہ ایک دیوانہ آتا ہے ان ظالموں نے آپ کے پیچھے چھوٹے چھوٹے لڑکے اور کتے ڈال دیئے۔لڑکے پتھر مارتے تھے۔پھر آپ جانتے ہیں شکاری کتے کتنے سخت ہوتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ سر سے پاؤں تک زخمی ہو گئے۔واپس آتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ اگر چاہو تو فوراً ان لوگوں کو سزا دی جائے مگر آپ فرماتے ہیں نہیں یہ لوگ نادانی سے ایسا کرتے ہیں 14۔جب کبھی ضرورت پیش آتی آپ فوراً ان دشمنوں کی امداد کرتے۔کوئی نہیں جو آپ کے پاس اپنی حاجت لے کر آیا اور آپ نے انکار کر دیا ہو۔دشمن آتے اور آپ ان کی ہر طرح خاطر داری کرتے۔وہ شہر جہاں سے رات کے وقت چھپ کر آپ کو بھا گنا پڑا، جہاں کے لوگوں نے آپ کے پیارے صحابہ کو اونٹوں سے باندھ