سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 321
سيرة النبي عمال 321 جلد 3 باندھ کر چیر ڈالا ، وہ لوگ جنہوں نے عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں شہید کر ڈالا ، جلتی ریت پر ڈال ڈال کر ہلاک کیا جب مغلوب ہونے کے بعد آپ کے سامنے پیش کئے گئے تو آپ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ 15 - ایک شدید دشمن نے جبکہ آپ کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی اور آپ سور ہے تھے تلوار ہاتھ میں لے کر آپ کو جگایا اور کہا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ۔اس لفظ کی عظمت اور ایمان کی طاقت سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آپ نے اٹھا کر کہا اب تجھے کون بچا سکتا ہے؟ اس کمبخت نے آپ کے عمل سے بھی سبق نہ سیکھا اور کہا آپ ہی چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں۔آپ نے اسے چھوڑ دیا اور کہا جاؤ چلے جاؤ 16۔غرض اس قدر ثبوت ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔آپ کی زندگی میں ہر کے نمونے موجود ہیں۔ایک جنگ میں آپ نے ایک عورت کو زخمی دیکھا۔با وجود یکہ وہ جنگ میں شامل تھی مگر آپ اس قدر غصہ ہوئے کہ صحابہ کا بیان ہے اس قدر غصہ کبھی نہ ہوئے تھے۔جب بھی اسلامی لشکر باہر جاتا آپ ارشاد فرماتے کہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں، ناکاروں، بیماروں اور راہبوں، پادریوں وغیرہ پر ہرگز حملہ نہ کیا جائے۔آپ قاضی تھے مگر ایسے کہ کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔آپ جرنیل تھے مگر جنگ میں آپ سے کسی قسم کی غلطی آج تک ثابت نہیں ہوسکی بلکہ کئی فنون جنگ آپ نے دنیا کو سکھائے ہیں۔آپ مبلغ تھے مگر چڑ چڑے نہیں۔لڑائی یا سخت کلامی کرنے والے نہیں۔مبلغین میں عام طور پر شوخی اور تیزی پیدا ہو جاتی ہے مگر آپ میں یہ بات نہ تھی بلکہ ہمیشہ محبت سے مخالفوں کی بات سنتے۔صلح کے موقع پر آپ نے ایسی شرائط پر صلح کی کہ اس سے نرم شرائط ممکن نہیں۔مگر جنگ ایسی بہادری سے کرتے کہ حنین کے موقع پر سارا لشکر بھاگ گیا۔چونکہ اس موقع پر غیر مسلم حلیف بھی آپ کے ساتھ تھے اور ان میں اتنا جوش نہ تھا اس لئے سب بھاگ گئے۔صرف بارہ آدمی آپ کے ساتھ رہ گئے اور ان میں سے بعض نے آپ کے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور کہا اس