سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 319

سيرة النبي علي 319 جلد 3 پھلکے تھے مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کسی ہمجولی نے دریافت کیا تو فرمایا میں صلى الله اس لئے روتی ہوں کہ اگر آج آنحضرت علی زندہ ہوتے تو یہ نرم نرم پھلکے انہیں کھلاتی۔غور کرو یہ کتنا گہرا نقش ہے۔کتنے ہیں جو وفات کے بعد مرنے والوں کو اس طرح یا د رکھتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا ایک ایک لمحہ بتا تا ہے کہ آپ کا دل آنحضرت ﷺ کی محبت سے لبریز تھا۔بعض بد باطن کہتے ہیں آپ نعوذ باللہ عیاش تھے۔کیا عیاش لوگوں کی بیویاں ان کی موت کے بعد اسی طرح ان کے ساتھ اظہار محبت کرتی ہیں؟ وہ تو نفرت اور حقارت سے انہیں دیکھتی ہیں اور ان کی موت کو اپنی نجات سے تعبیر کرتی ہیں۔غرضیکہ شادی کے زمانہ میں بھی آپ نے نہایت اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں ہم دیکھتے ہیں آپ ﷺ بیویوں سے ایسا برتاؤ کرتے جو محبت کے ازدیاد کا موجب ہو۔حتی کہ پیالہ کی جس جگہ منہ لگا کر وہ پانی پیتیں بعض اوقات آپ بھی وہیں ہونٹ لگا کر پیتے اور فرماتے یہ محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے 11۔اگر کسی اونچی جگہ چڑھنا ہوتا تو آپ اپنے گھٹنے کا سہارا دیتے۔یورپ کے وہ نادان لوگ جو آج اعتراض کرتے اور کہتے ہیں عورت کی عزت کے لئے یہ ضروری ہے جب رسول کریم علیہ سے ایسی بات دیکھتے ہیں تو اسی کی بنا پر آپ کو عیاش کہہ دیتے ہیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں اولاد ہو جانے کی حالت میں لوگ دوسروں کی خدمت اور ان کے حقوق کی حفاظت سے غافل ہو جاتے ہیں۔مگر آپ اس پہلو میں بھی اس قدر محتاط تھے کہ ایک دفعہ صدقہ کی کھجور میں آئیں۔حضرت امام حسنؓ اس وقت بچہ تھے آپ نے کھجور منہ میں ڈالی مگر آپ نے منع فرما دیا اور کہا یہ غربیوں کا حق ہے 12۔غور کرو آج کتنے لوگ ہیں جو اس قدر احتیاط کرتے ہیں۔بچوں کی بات پر عام طور پر کہہ دیا جاتا ہے نادان بچہ ہے۔مگر آپ کی بڑھاپے کی اولاد ہے اور زیادہ نہیں صرف ایک کھجور منہ میں ڈال لیتا ہے مگر آپ اس کے منہ سے نکال لیتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ