سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 295
سيرة النبي علي 295 جلد 3 دوسرا طریق دوسرے ایک ناجائز طریق دنیا میں غلامی کا یہ تھا کہ غلام بنانے کے لئے اپنی ہمسایہ قوم پر حملہ کر دیتے یا مال و دولت لوٹنے کے لئے حملے کرتے تھے اور ساتھ ہی آدمیوں کو غلام بنا لیتے تھے۔اسلام نے اس کو بھی رد کیا اور یہ قاعدہ بنا دیا کہ کسی قوم کو دوسری قوم پر اس وقت تک حملہ کرنے کا حق نہیں جب تک کہ وہ یہ ثابت نہ کر دے کہ اس کے بعض حقوق اس قوم نے تلف کر دیئے ہیں اور جب تک کہ ہمسایہ قوموں کو اس بات کا موقع نہ دے دیا جائے کہ وہ دونوں فریق میں اصلاح کی کوشش کریں لیکن ایسی جنگ کے بعد بھی غلام بنانے کی اجازت نہیں۔صرف اس بات کی اجازت ہے کہ جس حق پر لڑائی تھی وہ اس کو دلا دیا جائے یا جو ا اخراجات وغیرہ اس پر ہوئے ہیں وہ اس کو کلی طور پر یا ان کا کچھ حصہ دلا دیا جائے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدُهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ 2۔اور اگر مومنوں سے دو قو میں آپس میں لڑنے پر آمادہ ہوں تو ان میں صلح کرا دو۔پھر اگر اس صلح کے بعد بھی ایک دوسری کے خلاف زیادتی سے کام لے تو جو قوم زیادتی کرتی ہے اس کے خلاف سب قوموں کومل کر جنگ کرنی چاہئے۔یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو دوبارہ ان میں عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو۔اللہ تعالیٰ یقیناً انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام نے دنیوی جھگڑوں میں یونہی حملہ کر دینے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ سب سے پہلے دوسری اقوام کو بیچ میں ڈال کر صلح کرنے کا حکم دیا ہے۔اگر کوئی قوم دوسری قوم کا حق دینے کے لئے تیار نہ ہو تو پھر سب قوموں کو اس کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اور لڑائی کا انجام پھر صلح پر رکھا۔