سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 294
سيرة النبي م 294 جلد 3 طریق کی طرف لوٹے گا جسے محمد رسول اللہ علیہ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے قائم کیا۔غلامی کے متعلق اسلام کی کامل تعلیم میں وہ اصول بیان کر چکا ہوں جن کی بنا پر انسانی آزادی پر قید لگانی پڑی ہے اور وہ اصول بھی بیان کر چکا ہوں جن کی بنا پر انسانی آزادی پر قید لگانا ضروری ہے۔اور میں یہ بھی بیان کر چکا ہوں کہ غلامی کی حقیقی تعریف یہی ہے کہ انسان کی آزادی کو سلب کر کے اس کو بعض قیود کا پابند کر دیا جائے۔اگر ان تینوں امور کے متعلق میری رائے صحیح ہے اور جہاں تک میرا مطالعہ اور میراعلم جاتا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ غلامی کے متعلق اصولی طور پر غور کرنے والے تمام لوگ ان تینوں باتوں میں مجھ سے متفق ہیں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے غلامی کے متعلق جو تعلیم دی ہے اس کے کامل اور اکمل ہونے کے متعلق کسی شخص کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔غلامی کو اسلام نے کس طرح مٹایا پہلے میں غلامی کی ان اقسام کو لیتا ہوں صلى الله جو غلامی کے مشہور طریق سے جدا ہیں۔پہلا طریق یہ ہے کہ کسی آزاد کو ز بر دستی پکڑ کر بیچ ڈالا جائے۔اس کے متعلق رسول کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ آزاد کو فروخت کرنے والا واجب القتل ہے۔چنانچہ نجد کے کچھ عیسائیوں نے حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ ہمیں بعض ہماری ہمسایہ قوموں نے بغیر کسی جنگ کے قید کر کے غلام بنایا ہوا ہے۔حضرت عمر نے ان کو آزاد کر دیا اور فرمایا کہ اگر یہ جرم اسلام سے پہلے کا نہ ہوتا تو میں اسلامی احکام کے مطابق ان آزادوں کے قید کرنے والوں کو قتل کی سزا دیتا۔جو شخص اس قسم کی غلامی کے نتائج پر غور کرے وہ اس بات کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہے گا کہ اس رنگ میں انسان کو قید کر کے اس کے بیوی بچوں اور وطن سے جدا کر دینا ایک نہایت ہی فتیح فعل ہے۔اور اس کی سزا یقینا قتل ہی ہونی چاہئے۔کیونکہ ایسا شخص ہزاروں جانوں کو قتل کرتا ہے۔