سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 296
سيرة النبي عمال 296 جلد 3 جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ غلامی یا دوسرے کے حقوق کے تلف کرنے کی صورت بالکل ناممکن ہو جائے گی۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اس جگہ مومنوں کے متعلق احکام ہیں۔مومنوں کا لفظ صرف اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ مومن ہی قرآن کریم کے احکام کو مانیں گے ور نہ اصولی طور پر دنیا کی سب قو میں ان احکام پر عمل کر سکتی ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔تیسری صورت جو غلامی کے عام مشہور قاعدہ کے علاوہ دنیا میں تیسرا طریق رائج ہو گئی تھی یہ تھی کہ لوگ اپنے آپ کو یا اپنے بیوی بچوں کو بیچ ڈالا کرتے تھے۔اسلام نے اس طریق کو بھی بالکل روک دیا ہے اور ایک عام حکم دے دیا ہے کہ کسی آزاد کو غلام نہیں بنایا جا سکتا خواہ اس کی مرضی سے یا بغیر مرضی کے۔لیکن میں بتا چکا ہوں کہ بعض حالات میں آزادی سے غلامی بہتر ہوتی ہے۔ایک آزاد شخص جو بیمار ہے یا جسے کوئی ملازمت کا کام نہیں مل سکتا یا اور کوئی اسی قسم کی بات پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ روزی نہیں کما سکتا ، وہ آزاد رہتے ہوئے جو تکلیف اٹھائے گا بعض حالات میں غلامی میں اس سے کم تکلیف پہنچے گی۔اسی طرح جو تکلیف اس کے بچے اس کے پاس اٹھائیں گے بالکل ممکن ہے کہ بعض حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ غلامی میں اس سے کم تکلیف اسے پہنچے۔پس یہ حکم کہ کوئی شخص خود اپنے آپ کو یا اپنے بچوں کو نہیں بچ سکتا اُس وقت تک مفید اور قابل عمل نہیں کہلا سکتا جب تک کہ ان مشکلات کا بھی علاج نہ سوچا جائے جو اس حالت میں پیدا ہوتی ہیں۔اس زمانہ میں تمدنی ترقی کے ماتحت اس حکم کو تو لوگوں نے اختیار کر لیا ہے لیکن اس کے ساتھ جو مشکلات وابستہ ہیں ان کا کوئی علاج نہیں کیا۔مگر محمد رسول اللہ ﷺ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر فرد کا کھانا مہیا کرنا اور اس کا ضروری لباس اور اس کے لئے رہائش کا انتظام حکومت پر یا بالفاظ دیگر ساری قوم پر