سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 288
سيرة النبي مله 288 جلد 3 مگر اس کا نام کوئی غلامی نہیں رکھتا حالانکہ ملازمت اور غلامی میں کوئی فرق نہیں ہے۔شاید یہ کہا جائے کہ ملازم اپنی مرضی سے دوسرے کی ملازمت اختیار کرتا ہے اس لئے وہ غلام نہیں ہوتا اور غلام پر جبراً قبضہ کیا جاتا ہے اس لئے ہم اس کو ملازم سے الگ سمجھتے ہیں۔لیکن یہ امتیاز صحیح نہیں۔اس لئے کہ اس امتیاز کے ماتحت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو اپنی مرضی سے فروخت کر دے تو ایسے شخص کا غلام بنانا جائز ہے لیکن اگر یہ بھی نا جائز ہے تو ماننا پڑے گا کہ مرضی کی غلامیاں بھی غلامیاں ہی ہوتی ہیں۔اگر کوئی کہے کہ غلام اور ملازم میں یہ فرق ہے کہ نو کر اپنی مرضی سے ملا زمت چھوڑ سکتا ہے لیکن غلام ایسا نہیں کر سکتا۔تو پھر ہمیں یوں کہنا پڑے گا کہ وہ غلامی بری ہے جس کا طوق اپنی مرضی سے اتارا نہ جا سکے لیکن وہ غلامی حقیقی نہیں ہے جس کا طوق ہم اپنی مرضی سے اپنی گردن سے اتار سکیں۔بہر حال اویر کی مثالوں غلامی تمدن انسانی کا جُزو لاینفک ہے سے یہ ضرور ثابت ہوگا کہ غلامی تمدن انسانی کا ایک جز ولا ینفک ہے اور یہ کہ غلامی کا مفہوم اس وقت تک دنیا میں نہایت مہم رہا ہے۔اگر ہم اس کی تشریح کریں تو ہمیں دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی۔یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں غلامی موجود ہے اور موجود رہے گی اور اس کے بغیر دنیا کا گزارہ چل نہیں سکتا اور یا یہ ماننا پڑے گا کہ غلامی بھی دنیا کی اور چیزوں کی طرح بعض حالات میں اچھی ہوتی ہے اور بعض حالات میں بری۔بعض شرطوں کے ساتھ جائز اور ان شرطوں کے بغیر نا جائز۔ہم بغیر قیود کے نہ اس کی مذمت کر سکتے ہیں اور نہ اس کو جائز قرار دے سکتے ہیں۔دنیا میں غلامی کی بنیاد کس طرح پڑی اس تمہید کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ غلامی کی بنیاد دنیا میں کس طرح پڑی۔انسانی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی پیدائش کی ابتدا میں جبکہ