سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 287

سيرة النبي علي 287 جلد 3 جوانی کے زمانہ تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔اگر کماتا ہے تو اس کے مالک اس کے ماں باپ ہوں گے ، اگر وہ گھر کے کام کاج میں مدد دیتا ہے تو اس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاتی، گھر کے نظام میں اس کی کوئی آواز نہیں ہوتی، کھانے پینے ، پہنے کے متعلق وہ اپنے ماں باپ کا تابع ہوتا ہے، اس کی آئندہ زندگی کی داغ بیل ڈالنے کے لئے اس سے کوئی رائے نہیں پوچھی جاتی ، اس کے ماں باپ ہی اس کے لئے ایک پروگرام بناتے ہیں اور اس پر اسے چلاتے ہیں۔غرض کیا اطاعت کے لحاظ سے، کیا حریت ضمیر کے لحاظ سے، کیا ملکیت کے لحاظ سے اور کیا آزادی اعمال کے لحاظ سے، ہر انسان دس بارہ سال کی عمر تک کلی طور پر اپنے ماں باپ کے ماتحت ہوتا ہے اور اس میں اور ایک غلام میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔کون سی غلامی بری ہوتی ہے اگر کوئی شخص کہے کہ بچہ کو ماں باپ نہایت پیار اور محبت سے رکھتے ہیں، جو خود کھاتے ہیں اس کو کھلاتے ہیں، جو خود پہنتے ہیں اس کو پہناتے ہیں۔پھر بچہ کا بچپن کا زمانہ سمجھ کا زمانہ نہیں ہوتا اگر اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کے لئے اور دنیا کے لئے نقصان کا موجب ہوگا۔اس کے ماں باپ اسے جن باتوں کے لئے مجبور کرتے ہیں وہ خود اس کے فائدہ کے لئے ہوتی ہیں۔تو میں کہوں گا کہ معلوم ہوا غلامی اُسی وقت بری ہوتی ہے جب اپنے میں اور غلام میں کوئی فرق کیا جائے اور جب غلام کے فائدہ کا پروگرام مدنظر نہ رکھا جائے، جب غلام کی عقل پختہ اور فہم صحیح ہومگر با وجود اس کے اس کو مجبور کیا جائے ورنہ بچے اور ماں باپ کے تعلقات کو دیکھتے ہوئے بغیر قید کے غلامی کو برا نہیں کہا جا سکتا۔ملازموں کی غلامی تیسری قسم کی غلامی کی مثال ملازمتوں میں ملتی ہے۔ملازمتوں میں بھی انسان بعض دفعہ یا بعض اعمال میں کلی طور دوسرے کے ماتحت ہوتا ہے یا بعض اوقات میں کلی طور پر دوسرے۔پر دوسرے کے تابع ہوتا۔ہے