سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 289

سيرة النبي علي 289 جلد 3 انسانی دماغ زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا اور جبکہ اخلاق کی باریکیوں سے بھی انسان واقف نہ ہوا تھا اور ان کی عادت اس میں نہ پڑی تھی۔اُس وقت جبکہ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے رستہ میں روک پاتا تھا تو اس روک کے دور کرنے کا وہ صرف ایک علاج سمجھتا تھا۔وہ علاج یہ تھا کہ اپنے مد مقابل کو قتل کر ڈالے۔کیونکہ اُس دور میں ابھی انسان میں یہ سمجھنے کی قابلیت نہ تھی کہ جب ایک دوسرا شخص مجھے اپنے رستہ سے ہٹانا چاہتا ہے تو بغیر اس کے کہ میں اس شخص کو اپنے رستہ سے ہٹا دوں میری حفاظت کا اور کونسا رستہ ہوسکتا ہے۔پس اُس زمانہ میں قتل ایک علاج تھا جو خود حفاظتی کا ایک انتہائی کامل ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔اُس زمانہ میں وہ قتل جولڑائی کے نتیجہ میں ہو کسی صورت میں بھی معیوب نہ تھا کیونکہ جو شخص اپنے دشمن کو قتل نہ کرتا وہ یقیناً خود قتل کیا جاتا سوائے اس صورت کے کہ باہمی صلح ممکن ہو۔پس اُس زمانہ میں نیک اور بدا قوام جب کسی دوسری قوم سے جنگ کرنے پر مجبور ہوتی تھیں تو جب صلح کا امکان نہ ہوتا تھا تو نہ صرف جنگ میں اپنے دشمنوں کو مارتی تھیں بلکہ جنگ کے بعد بھی جو دشمن ہاتھ آ سکتے ان کو قتل کر دیتی تھیں۔اُس وقت کے حالات کے ماتحت یہ باتیں بری نہ تھیں بلکہ خود حفاظتی کے قانون کے ماتحت نہایت ضروری تھیں۔اور اُس وقت کے معیار اخلاق کے ماتحت صرف وہی اقوام ظالم کہلاتی تھیں جو عورتوں اور بچوں کو بھی مار ڈالتی تھیں۔اس کے بعد ایک نیا دور چلا اور اخلاق کا معیار بلند ہو گیا۔اب یہ فرق کیا جانے لگا کہ صرف وہی شخص مارے جانے چاہئیں جو فتنوں کے بانی ہوں۔باقی لوگوں کو اگر ایسی صورت میں زندہ رکھا جا سکے کہ وہ ہماری تباہی کا موجب نہ ہوں تو انہیں زندہ رہنے کا موقع دینا چاہئے۔چونکہ ابھی دنیا کا تمدن کامل نہیں ہوا تھا اور نظام حکومت ایسا پیچیدہ نہ تھا جیسا کہ اس زمانہ میں ہے اُس زمانہ میں یہ انتظام کیا گیا کہ جس قوم سے جنگ ہو اس کے افراد کو قید کر لیا جائے اور چونکہ نہ حکومت قیدیوں کا خرچ برداشت کر سکتی ہے اور نہ ان کے لئے قید خانے مہیا کر سکتی ہے اس لئے انہیں ملک کے مختلف