سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 246
سيرة النبي علي 246 جلد 3 بندوں کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے کے لئے اپنے مقام کو ان سے مخفی رکھتا ہے۔لیکن جب بندہ اس کی تلاش کرتا اور اسے پہچان لیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی بندے پر ظاہر کر دیتا ہے کہ میں تمہیں پہچانتا ہوں۔پس خدا تعالیٰ کو بندہ کے پہچاننے کا ثبوت یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ بندہ کو پہچان لے۔جب بندہ خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے جواب میں پہچانتا ہے۔عام عرفان کے متعلق رسول کریم ﷺ نے ایک آیت پیش فرمائی ہے۔اس میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں میں پہلے وہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُجْبُكُمُ اللهُ 2 کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔اس آیت میں پانچ باتیں بیان کی گئی ہیں۔اول یہ کہ خدا تعالیٰ کو انسان پاسکتا ہے۔پہلے جتنے بزرگ گزرے ہیں جب انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے خدا کو پا لیا تو انہوں نے غلط نہ کہا بلکہ بالکل درست کہا کیونکہ انسان خدا کو پا سکتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے۔قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكم الله اگر تم خدا تعالیٰ کو ملنے کی خواہش رکھتے ہو تو آؤ اس کا ذریعہ میں تمہیں بتاؤں کہ کس طرح مل سکتے ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ انسان کو مل سکتا ہے۔دوسری جگہ اس بات کی اس طرح تصدیق کی گئی کہ فرمایا وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا الَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہِ جو ہم تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں ہم اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ ہمیں پالیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر قوم اور زمانہ میں ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے کہا کہ خدا مل گیا۔مثلاً ایران میں حضرت زرتشت نے کہا۔ہندوستان کے کئی بزرگوں حضرت کرشن ، حضرت رام چندر، حضرت بدھ کے کلام کو دیکھا جائے تو صاف طور پر یہ ذکر ملتا ہے کہ خدا کو ہم نے پا لیا۔چین میں کنفیوشس ایسے ہی بزرگ گزرے ہیں۔شام میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مل جاتے ہیں۔عرب 3