سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 245
سيرة النبي عمال 245 جلد 3 پہلی صورت تو یہ ہے کہ انسان کو اپنی ذات میں خدا تعالیٰ نظر آ جائے۔یہ سب سے بالا و بلند مقام ہے۔اس سے دوسرا مقام یہ ہے کہ کامل انسانوں میں خدا نظر آ جائے۔اور تیسرا مقام یہ ہے کہ باقی انسانوں میں خدا نظر آئے۔کامل انسان میں خدا تعالیٰ کا دیکھنا مشکل ہے۔مگر عام انسانوں میں خدا کو دیکھنا بھی آسان نہیں۔ایک انسان اگر جنگل میں کوئی خوشکن سبزہ زار دیکھے تو بے اختیار سُبحَانَ اللهِ کہے گا اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی توجہ پھر جائے گی۔لیکن اس سے بہتر اس کا ہمسایہ ہوگا مگر اس سے لڑتا جھگڑتا رہے گا۔وہ سبزہ میں تو خدا کو دیکھ لے گا لیکن ہمسایہ میں اسے نظر نہ آئے گا۔وہ گانے والی چڑیا کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کا جلوہ محسوس کرے گا مگر بولنے والے انسان میں اسے کچھ نہ نظر آئے گا کیونکہ رقابت کی وجہ سے اس میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے تو یہ تیسرا درجہ ہے۔اس سے اتر کر چوتھا درجہ باقی مخلوق میں خدا تعالیٰ کو دیکھنا ہے۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کی رؤیت کے اعلیٰ مقامات ہیں۔پھر پانچواں مقام یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسروں کو خدا دکھائے۔ہر کمال جو انسان کو حاصل ہوتا ہے اس کے دو درجے ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ انسان خود اسے سمجھے۔دوسرے یہ کہ دوسروں کو سمجھا سکے۔ایک طالب علم خود جس قدر جغرافیہ اور تاریخ سمجھ سکتا ہے اسے اگر کہا جائے کہ اسی قدر دوسرے لڑکوں کو سمجھا دو تو وہ نہیں سمجھا سکے گا۔پس پانچواں مقام یہ ہے کہ انسان دوسروں کو خدا دکھا سکے۔وقت کی کمی کی وجہ سے میں مضمون کو مختصر کر رہا ہوں ورنہ خدا تعالیٰ کی شناخت کے اور بھی مقام ہیں۔اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی کو پہچان لینے کی علامتیں کیا ہوتی ہیں۔بعض لوگ دوسروں کو پہچان لیتے ہیں مگر وہ خود نہیں پہچانے جاتے۔انسانوں میں اس قسم کا معاملہ روز ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اور بندہ میں اس طرح نہیں ہو سکتا۔کیونکہ بندہ کا علم محدود ہوتا ہے وہ پہچاننے والوں کو پہچاننے سے محروم ہوسکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔اس لئے جب کوئی بندہ خدا تعالیٰ کو پہچان لے تو خدا تعالیٰ بھی اپنی پہچان فوراً اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ سب کو پہچانتا ہے مگر۔