سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 247

سيرة النبي عليه 247 جلد 3 میں حضرت صالح اور حضرت ہوڈ پائے جاتے ہیں۔غرض جہاں بھی جائیں ایسے انسان وہاں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ خدا کو مل گئے اور خدا انہیں مل گیا۔یہ ایسی پختہ اور اتنی عام فہم بات ہے کہ اگر اس کا انکار کیا جائے تو دنیا میں کوئی صداقت رہتی ہی نہیں۔کیونکہ اگر یہ لوگ جھوٹے ہو سکتے ہیں تو پھر دنیا میں اور کوئی سچا نہیں ہوسکتا۔غرض الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو مجھ سے ملنے کی کوشش کرتا ہے وہ مجھے پالیتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُدَيْرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُونَ 4 خدا اپنی باتوں کو اندازہ سے رکھتا ہے اور جہاں جہاں کے متعلق کوئی چیز ہوتی ہے وہاں کھولتا اور تشریح کرتا ہے تا کہ اس کے بندوں کو اپنے رب کے لِقا پر یقین ہو جائے۔پس پہلی بات جو رسول کریم ﷺ نے اس آیت کے ذریعہ دنیا کو بتائی وہ یہ ہے کہ خدا بندوں کو مل سکتا ہے۔دوسری بات یہ فرمائی کہ عرفان حاصل کرنے کے لئے سنجیدگی اور کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ فرمایا فَاتَّبِعُونِی خدا کے ملنے کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ عرفان کے حصول کے لئے صحیح راہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اس کے لئے عارف کی اتباع کی ضرورت ہے چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ 5 صادقین کے ساتھ مل جاؤ۔چوتھی بات یہ فرمائی کہ وہ صحیح راہنما محمد رسول اللہ ﷺے ہیں۔اس کا اشارہ ”نبی“ میں کیا گیا ہے کہ میری اتباع کرو تب خدا ملے گا۔پانچویں بات یہ بتائی يُحْبِبْكُمُ الله کہ انسان اللہ کا محبوب ہو جائے گا۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کا پیدا ہونا اور بات ہے لیکن جب تک خدا کی محبت انسان کی محبت کے جواب میں نہ اترے وہ عارف نہیں کہلا سکتا۔خواہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی کتنی محبت ہو۔کیونکہ محبوب کا مل جانا اس کی محبت کی علامت ہوتی