سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 244

سيرة النبي علي 244 جلد 3 وہ نہ آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے نہ ہاتھوں سے چھوٹی جاسکتی ہے اس کے پہچاننے کا کیا مفہوم ہو سکتا ہے۔اس صورت میں یقینی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے پہچاننے کا وہ مفہوم نہیں ہوسکتا جو دوسری چیزوں کے پہچاننے کا ہوتا ہے۔مادی چیزوں کے پہچانے کا طریق یہ ہے کہ ہم انہیں آنکھوں سے دیکھتے یا زبانوں سے چکھتے یا کانوں سے سنتے یا ہاتھوں سے چھوتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی نہیں جو دیکھنے، سننے، سونگھنے یا چکھنے سے معلوم ہو سکے۔چنانچہ وہ ذات خود اپنے متعلق فرماتی ہے نی لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ 1 کہ وہ ایسی ذات ہے جسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں مگر وہ خود آنکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔پس جب ہم اسے دیکھ نہیں سکتے تو پھر پہچاننے کے لئے کوئی اور ذریعہ اختیار کرنا ہوگا اور وہ ذریعہ یہی ہے کہ جو ہستی خالق ہے اور جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے کہ وہ سارے جہان کی خالق ہے اس کی پہلی شناخت اپنی ذات سے ہوگی۔کیونکہ جو چھوا، چکھا، دیکھا اور سنا نہ جا سکے اس کے پہچاننے کا طریق یہ ہے کہ اس کے کام دیکھیں۔اور خدا تعالیٰ کے کاموں کے لحاظ سے سب سے پہلی چیز ہماری اپنی ذات ہی ہے۔پس سب سے پہلی شناخت خدا تعالیٰ کی اپنی ذات میں ہی انسان کر سکتا ہے۔اور جو اپنی ذات میں خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسے پہچان لیتا ہے۔اسی لئے صوفیاء کہتے ہیں مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔دوسری شناخت کی صورت یہ ہے کہ دوسری کامل چیزوں میں خدا کو دیکھا جائے۔میں نے خدا تعالیٰ کی شناخت کے طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے کامل چیزوں کو مقدم رکھا ہے۔حالانکہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ جتنی کوئی چیز زیادہ کامل ہو گی اتنی ہی زیادہ آسانی کے ساتھ دیکھی جا سکے گی۔مگر یہ درست نہیں کیونکہ جتنی کوئی چیز زیادہ کامل ہوگی اتنی ہی وراء الورا ہوتی چلی جائے گی۔اس لئے کامل چیزوں میں خدا کا دیکھنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی پہچان کی