سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 243

سيرة النبي عمال 243 جلد 3 انسان۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بعض اشعار میں بے شک ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جس میں رسول کریم ﷺ کی روح کو مخاطب کیا ہے مگر ملہم اور غیر ملہم کے کلام میں فرق ہوتا ہے۔ملہم جسے مخاطب کرتا ہے اسے اپنی آنکھ سے اپنے سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں نے جاگتے ہوئے حضرت علی، حضرت حسینؓ اور حضرت فاطمہ سے باتیں کیں۔پس اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ اے رسول اللہ ! یہ بات یوں ہو تو یہ سچ ہے لیکن وہ جسے یہ حالت حاصل نہیں وہ اگر یہ کہتا ہے کہ اے رسول اللہ ! آپ کی مجھ پر نظر عنایت ہو تو غلط کہتا ہے۔نظر عنایت خدا ہی کی ہوتی ہے۔ہم مشرک نہیں اس لئے ہم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں۔خواہ محمد علی کی ذات ہی کیوں نہ ہو۔ہماری جماعت کے شاعروں کو اپنے کلام میں یہ بات یاد رکھنی چاہئے ”گر حفظ مراتب 66 صلى الله علوس نہ کنی زندیقی۔“ حفظ مراتب کرنا ہمارا فرض ہے۔پس ضروری ہے کہ جس امر کی حفاظت کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں ہر حال میں اس کی حفاظت کریں۔لیکن اگر وہی چیز جس کی حفاظت کے لئے رسول کریم ﷺ کھڑے ہوئے اسے ضائع کر دیتے ہیں تو پھر رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار سے ہمیں کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔" اس کے بعد میں اصل مضمون کو لیتا ہوں جو اس سال کے جلسوں کے لئے خصوصیت سے مقرر کیا گیا ہے اور جو یہ ہے کہ عرفان الہی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ جس پر رسول کریم علی دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے۔‘ عرفان عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پہچاننے اور شناخت کرنے کے ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کی نسبت کم از کم ایک مسلمان یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ وراء الورا ہستی ہے اور مجسم نہیں۔اس لئے ممکن نہیں کہ انسانی آنکھیں اسے دیکھ سکیں یا انسانی ہاتھ اسے چھوسکیں یا دوسرے ظاہری حواس اسے محسوس کر سکیں۔پس وہ ذات جس کے متعلق یہ یقین ہو کہ