سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 211

سيرة النبي علي 211 جلد 3 الصلحین سب کے ساتھ بھی ہے اور اگر ان کے معنی درست تسلیم کئے جائیں تو یہ مطلب ہوگا کہ نبی نہ ہوں گے، نبیوں کے ساتھ ہوں گے۔صدیق نہ ہوں گے بلکہ صدیقوں کے ساتھ ہوں گے۔شہید نہ ہوں گے بلکہ شہداء کے ساتھ ہوں گے۔صالح نہ ہوں گے بلکہ صالحین کے ساتھ ہوں گے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو ان معنی سے تو امت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔یہاں مَعَ بمعنی مِن یعنی ” سے“ کے ہے۔قرآن کریم میں یہ استعمال موجود ہے۔چنانچہ آیا ہے تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ 2 یعنی نیکوں میں سے کر کے مار، یہ معنی نہیں کہ جب کوئی نیک بندہ مرنے لگے تو ہمیں بھی اس کے ساتھ وفات دے دے۔پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے مقام نبوت بھی حاصل ہو جاتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع سے جو نبی بنے گا اس کی نبوت دوسرے انبیاء کے مقابلہ میں ہوتی ہے آنحضرت ﷺ کی نسبت سے وہ امتی ہوتا ہے۔پس ایسی نبوت کے حصول میں آنحضرت مے کی کسر شان نہیں۔حدیث میں آیا ہے لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِي3 یعنی اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا۔پس اگر نبی کے ماتحت ہونے سے کسر شان ہوتی تو رسول کریم عمل یہ نہ فرماتے۔حضرت مرزا صاحب با وجود دعوی نبوت کے امتی ہونے پر فخر کیا کرتے تھے اور آنحضرت علی صلى الله کی غلامی کے اظہار میں عزت سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ کا یہ مشہور شعر ہے:۔کرامت گر چه بے نام ونشان است بیا بنگر ز غلمان محمد اسی طرح آپ اپنے فارسی الہامی قصیدہ میں فرماتے ہیں:۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم