سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 210

سيرة النبي علي 210 جلد 3 رسول کریم علیہ کی اتباع سے اعلی کمالات 30 ستمبر 1929 ء کے لیکچر بمقام جموں میں حضرت مصلح موعود نے مزید فرمایا :۔" آنحضرت عل استاد تھے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ آپ کی اتباع سے اعلیٰ سے اعلیٰ کمالات حاصل ہو سکتے ہیں۔دیکھو استاد کا کمال کیا یہ ہوتا ہے کہ اس کی نسبت کہا جائے یہ ایسا کامل ہے کہ اس کا کوئی شاگرد پرائمری سے بڑھ نہیں سکتا یا یہ کہ یہ ایسا کامل ہے کہ اس کے شاگرد بی اے اور ایم اے ہیں۔ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی سے نبوت مل سکتی ہے۔سورۃ فاتحہ میں جو أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ آیا ہے اس کی دوسرے مقام پر اس طرح توضیح کی گئی ہے کہ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَيْكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَبِكَ رَفِيقًا 1 اس آیت میں مُنْعَم عَلَيْهِ گروہ کے چار درجے بیان فرمائے گئے ہیں۔نبی ، صدیق ، شہید، صالح۔یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آنحضرت ﷺ کی پیروی سے انسان یہ چار درجے حاصل کر سکتا ہے۔دوسرے انبیاء اور آنحضرت ﷺے میں ایک یہ بھی فرق ہے کہ پہلے انبیاء کی اتباع سے ج الله نبی نہیں بن سکتے تھے صدیق اور شہید ہو سکتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کو وہ کمال حاصل تھا کہ حضور کی اتباع سے نبی بھی بن سکتے ہیں۔بعض لوگ ناواقفیت کے باعث یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس آیت میں مع کا لفظ ہے جس سے معلوم ہوا کہ نبی نہ ہوں گے نبیوں کے ساتھ ہوں گے۔مگر انہیں معلوم ہونا چاہئے یہ مَعَ صرف النَّبِيِّنَ کے ساتھ ہی نہیں بلکہ الصَّدِيقِيْنَ الشُّهَدَاءِ ، 6