سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 208
سيرة النبي علي 208 جلد 3 آنحضور ﷺ ہمیشہ خدا کی ذات منواتے رہے 1929 ء میں دورہ کشمیر کے دوران حضرت مصلح موعود کو ایک دن کے لئے جموں میں ٹھہر نا پڑا۔چنانچہ 30 ستمبر 1929 ء کو احباب جموں نے حضور کے لئے ایک تبلیغی تقریر کا اہتمام کیا۔جس کا عنوان تھا ”ہدایت کے متلاشی کو کیا کرنا چاہئے۔آپ نے اس تقریر میں سیرت رسول کریم علیہ پر بھی روشنی ڈالی جو درج ذیل ہے:۔”میرے نزدیک مذہب کی غرض فتنہ و فساد پیدا کرنا نہیں بلکہ مذہب دلوں کی صفائی کے لئے ہوتا ہے۔اگر فتنہ غرض ہوتی تو اسے شیطان باحسن طریق سرانجام دے سکتا تھا۔مگر مذہب کی ہرگز یہ غرض نہیں۔صلى حضرت محمد رسول اللہ ﷺ جنہوں نے اپنی جوانی کی زندگی اپنی قوم کی بھلائی میں خرچ کی کوئی عقلمند ایک لمحہ کے لئے بھی خیال نہیں کر سکتا کہ آپ بڑھاپے کی عمر میں فتنہ وفساد پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے جو اگر چہ عام مؤرخین کی نظر سے پوشیدہ ہے مگر مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔وہ جنگ احد کا واقعہ ہے جب کہ آنحضرت ﷺ کے دانت شہید ہوئے۔اُس وقت ابوسفیان نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہے؟ ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) کہاں ہے؟ عمر (رضی اللہ عنہ ) کہاں ہے؟ یعنی سب مارے گئے ہیں۔اُس وقت حضرت عمرؓ الله جواب دینے لگے کہ میں تمہارے مارنے کے لئے موجود ہوں مگر آنحضرت ﷺ نے روکا اور اپنی ذات کے لئے کچھ نہ کہنے دیا۔لیکن ابو سفیان نے کہا اُعْلُ هُبَل، اُعْلُ هبل تو اُس وقت آنحضرت علیہ سے برداشت نہ ہو سکا اور فرمایا کیوں نہیں کہتے اللهُ