سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 207
سيرة النبي علي 207 جلد 3 آنحضرت مہ کی قوت قدسیہ اور حضرت ابوذرغفاری کا قبول اسلام حضرت مصلح موعود نے 16 اگست 1929ء والے لیکچر میں حضرت ابوذرغفاری کا بایں الفاظ تذکرہ فرمایا :۔”حضرت ابوذر غفاری کا قصہ حدیث میں آتا ہے جب انہوں نے آنحضرت علی کی نسبت سنا تو وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی تعلیم کو سن کر اسلام میں داخل ہو گئے۔چونکہ آپ کا قبیلہ سخت مخالف تھا اس لئے آنحضرت عیہ سے اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہی۔آپ نے اجازت دے دی۔اس کے بعد کچھ دن وہ حضور کی صحبت میں رہے اور اس قدر اسلام کی محبت ان کے اندر موجزن ہوئی کہ وہ سردارانِ مکہ کے سامنے جا کر بلند آواز سے کہنے لگے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ۔اس پر انہیں اس قدر زدو کوب کیا گیا کہ وہ بے ہوش گئے۔حضرت عباس جو ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے وہاں سے گزرے اور انہیں یہ کہہ کر چھڑایا کہ جانتے ہو کہ یہ شخص کون ہے؟ غفار قبیلہ کا ہے اور اگر وہ تمہارے مخالف ہو گئے تو تمہاری ساری تجارت بند ہو جائے گی اور کوئی چیز تمہارے پاس نہیں پہنچ سکے گی۔اس دن تو وہ چھوٹ گئے لیکن دوسرے دن پھر اسی طرح کیا اور پھر مار کھائی۔پہلے تو وہ اپنے قبیلہ میں جا کر اپنے اسلام کے مخفی رکھنے کی اجازت چاہتے تھے مگر ایمان نے ایسا جوش مارا کہ انہوں نے مکہ ہی میں اشاعتِ اسلام شروع کر دی۔“ (الفضل 12 نومبر 1929ء)