سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 206
سيرة النبي عمال 206 جلد 3 سمجھتے تو میں اپنے دل میں کہتا کیا یہ معنی مجھے معلوم نہ تھے یہ مجھ سے بہتر تو نہیں جانتے۔اس اثناء میں آنحضرت ﷺ تشریف لائے اور فرمایا ابو ہریرہ ! کیا بھوک لگی ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں۔اس پر آپ نے مسجد کے دوسرے غرباء کو بھی بلانے کے لئے فرمایا۔چنانچہ جب میں سب کو بلا کر لے گیا تو آپ نے دودھ کا ایک پیالہ نکالا اور پلانا شروع کیا مگر مجھے چھوڑ کر پہلے دوسروں کو پلانے لگ گئے۔اس پر میں دل میں کڑھا کہ بھوک سے تو میں مر رہا تھا ایک پیالہ دودھ ہے وہ دوسرے پینے لگ گئے ہیں مجھے کیا ملے گا۔آنحضرت علیہ نے سب کو پلا کر مجھے فرمایا ابوہریرہ ! اب تم پیو۔میں نے پیا۔حضور نے فرمایا اور پیو۔پھر میں نے پیا۔اس طرح حضور نے مجھے کئی بار پلایا حتی کہ پیٹ میں ذرا بھی گنجائش باقی نہ رہی۔یہ واقعہ سنا کر حضرت ابوہریرہ فرمانے لگے اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ میرا یہ حال تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ جب خدا نے فضل کیا۔آنحضرت ﷺ کے فرمانے کے مطابق فتوحات ہوئیں اور میں ایران کے بادشاہ کے رومال میں تھوکتا ہوں 4۔حضرت ابو ہریرہ فتوحات کے زمانہ میں مصر کے گورنر بھی بنا دیئے گئے تھے۔“ الفضل 12 نومبر 1929 ء ) 1: بخارى كتاب الزكوة باب اخذ صدقة التمر صفحه 241 242 حدیث نمبر 1485 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول مقالة المهاجرين في عيسى عند النجاشي صفحہ 387،386 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى 3:اسد الغابة في معرفة الصحابة الجزء الثالث عبد الله بن عثمان(ابوبکر) خلافته صفحہ 126 مطبوعہ بیروت 2006ء الطبعة الأولى 4: بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبي صلى الله عليه وسلمو اصحابه صفحہ 1120 حدیث نمبر 6452 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية