سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 196
سيرة النبي عليه 196 جلد 3 معلوم ہو جائے گی۔اگر جھوٹے ہیں تو دنیا کو آپ کے وجود سے نجات حاصل ہو جائے گی۔آپ نے یہ سن کر فرمایا اسے کچھ نہ کہو۔حالانکہ وہ صحابی بشر فوت ہو گئے۔آپ کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والا صحابی فوت ہو گیا مگر آپ نے عورت ہونے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا۔حالانکہ اس نے آپ کی اور آپ کے مخلص صحابہ کی جان لینے کی کوشش کی تھی اور اس طرح اسلام کو بیخ و بن سے اکھیڑ نا چاہا تھا۔یہ کتنا بڑا اسلوک تھا۔پانچویں مثال جب آپ جنگ کے لئے جاتے تو حکم دیتے کسی قوم کی عبادت گاہیں نہ گرائی جائیں۔ان کے مذہبی پیشواؤں کو نہ مارا جائے۔عورتوں پر اور صلى الله بوڑھوں ، بچوں پر حملہ نہ کیا جائے۔رسول کریم علیہ کے زمانہ سے پہلے یہ رواج تھا کہ پادریوں اور صوفیوں کو مار ڈالا جاتا تھا۔رسول کریم ﷺ نے اس سے روک دیا۔اگر آپ دیگر مذاہب کے ایسے دشمن ہوتے جیسے مخالفین آپ کو قرار دیتے ہیں تو کیا آپ یہ حکم دیتے کہ ان مذاہب کے راہنماؤں کو چھوڑ دیا جائے۔آپ تو یہ کہتے کہ سب سے پہلے ان کو مارا جائے۔مگر آپ نے فرمایا جو تلوار لے کر حملہ کرتا ہے اسے مارو لیکن جو لوگ مذہبی کاموں میں لگے ہوئے ہوں ان کو نہ مارو۔چھٹی مثال دنیا میں طریق ہے کہ جن لوگوں سے جنگ ہوتی ہے ان کے احساسات کا خیال نہیں رکھا جاتا اور مفتوح اقوام کو ہر طرح دبانے اور ان کے جذبات کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔انگریزی حکومت بڑی مہذب کہلاتی ہے مگر آج تک لاہور میں لارنس کا مجسمہ ہاتھ میں تلوار لئے کھڑا ہے جس کے نیچے ہندوستانیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے۔قلم کی حکومت چاہتے ہو یا تلوار کی ہر ہندوستانی سمجھتا ہے اس میں اہل ہند کی ہتک کی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے اگر تم قلم کی حکومت نہ مانو گے تو تلوار کے زور سے تم پر حکومت کی جائے گی۔