سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 195
سيرة النبي علي 195 جلد 3 سلوک کرنے کا حکم دیتے اور اس کے متعلق اتنا زور دیتے کہ صحابہ ہر وقت اس کی پابندی یا در رکھتے۔لکھا ہے کہ ابن عباس ایک دفعہ گھر میں آئے۔انہوں نے دیکھا کہیں سے ان کے ہاں گوشت آیا ہے۔انہوں نے گھر والوں سے پوچھا اپنے ہمسائے یہودی کو گوشت بھیجا ہے یا نہیں؟ آپ نے اس بات کو اتنی دفعہ دہرایا کہ گھر والوں نے کہا آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا رسول کریم ع سے میں نے سنا ہے جبرائیل نے اتنی دفعہ ہمسایہ کے حق کی تاکید کی کہ میں نے سمجھا اسے وراثت میں شریک کر دیا جائے گا۔یہ عملی سلوک تھا رسول کریم ﷺ کا جو آپ نے غیر مذاہب کے لوگوں سے روا رکھا۔آپ لوگوں کے احساسات کا بھی بے حد خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر کے سامنے کسی یہودی نے کہا موسیٰ کی قسم! جسے خدا نے سب نبیوں پر علوم فضیلت دی۔اس پر حضرت ابو بکر نے اسے طمانچہ مار دیا۔جب یہ معاملہ رسول کریم علی کے پاس آیا تو آپ نے حضرت ابوبکر جیسے انسان کو زجر کی۔غور کرو مسلمانوں کی حکومت ہے ، رسول کریم ﷺ پر حضرت موسی کو ایک یہودی فضیلت دیتا ہے اور ایسے طرز سے کلام کرتا ہے کہ حضرت ابو بکر جیسے نرم دل انسان کو بھی غصہ آ جاتا ہے اور وہ اسے طمانچہ مار بیٹھتا ہے مگر رسول کریم ہے اسے ڈانٹتے ہیں اور فرماتے ہیں کیوں تم نے ایسا کیا۔اسے حق ہے جو چاہے عقیدہ رکھے۔چوتھی مثال فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت نے آپ کی دعوت کی اور اس نے گوشت میں زہر ملا دیا۔جب آپ کے سامنے رکھا گیا تو ایک صحابی بشر نے اس میں سے کھا لیا۔مگر آپ کو الہاماً معلوم ہو گیا اس لئے آپ نے لقمہ اٹھا کر پھر رکھ دیا۔آپ نے اس عورت سے پوچھا کہ اس کھانے میں تو زہر ہے۔اس نے کہا آپ کو کس نے بتلا دیا۔آپ نے ایک ہڈی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اس نے۔یہودن نے کہا میں نے اس لئے زہر ملایا تھا کہ اگر آپ خدا کے سچے نبی ہیں تو آپ کو یہ بات