سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 197
سيرة النبي عمال 197 جلد 3 ہندوستانیوں نے اس مجسمہ کے ہٹائے جانے کے لئے بڑا زور بھی لگایا مگر گورنمنٹ نے نہیں مانا۔رسول کریم علیہ کی شان دیکھئے مکہ والوں نے آپ پر کس قدر ظلم کئے تھے۔متواتر 13 سال مکہ والے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر مظالم کرتے رہے۔عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر ہلاک کیا گیا۔رسیوں سے باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا۔بھٹیوں سے کو ئلے نکال کر ان پر مسلمانوں کو لٹایا گیا۔پتھریلی زمین پر گھسیٹا گیا۔بعض مردوں اور عورتوں کی آنکھیں نکال دی گئیں اور یہاں تک ظلم کئے گئے کہ آخر رسول کریم علیہ کو اپنا پیارا وطن چھوڑنا پڑا۔وہاں بھی ان لوگوں نے آپ کو چین نہ لینے دیا۔وہاں کے لوگوں کو آپ کے خلاف اکسایا۔قیصر اور کسریٰ کی حکومتوں کو اشتعال دلایا۔مگر جب ایسی قوم کے خلاف آپ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ چڑھائی کر کے جاتے ہیں تو ابوسفیان آ جاتا ہے، اُس وقت مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے اہل مکہ کے سارے مظالم ایک ایک کر کے آ رہے ہیں، ان کا خون جوش سے ابل رہا اور وہ سمجھ رہے ہیں آج ہم اپنے بھائیوں کے خون کے ایک ایک قطرہ کا بدلہ لیں گے۔اُس وقت فوج کے ایک حصہ کا کمانڈر کہتا ہے آج مکہ والوں کی خیر نہیں ہم ان کے ظلموں کا ان سے بدلہ لیں گے۔اس پر ابوسفیان آگے بڑھ کر شکایت کرتا ہے کہ اس شخص نے ہمارا دل دکھایا ہے (کس کا؟ شدید دشمن بالمقابل لشکر کے کمانڈر کا ) رسول کریم ﷺ نے اس پر اس شخص کو بلوایا اور فرمایا آپ کو معزول کیا جاتا ہے کیونکہ آپ نے کفار مکہ کے احساسات کا خیال نہیں رکھا۔دیکھوا بھی معلوم نہیں کہ مکہ والے کیا رویہ اختیار کریں گے ، لڑائی کا کیا نتیجہ رونما ہو گا مگر مکہ والوں کے ایک سردار کے یہ کہنے پر کہ فلاں افسر نے ہمارا دل دکھایا ہے ایک کمانڈر کو معزول کر دیا جاتا ہے۔کیا دنیا کی تمام جنگوں کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال دکھائی جا سکتی ہے؟ کمانڈر چھوڑ نائیک (Naik) اور لانس نائیک (Lance Naik) کی مثال بھی نہیں دکھائی جا سکتی کہ اسے اس لئے سزا دی گئی ہو کہ اس نے میدان جنگ