سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 194

سيرة النبي مله 194 جلد 3 خوبیوں کا اعتراف کیا اور اس وجہ سے اچھا سلوک کیا۔دوسری مثال نصاریٰ نجران کا واقعہ پیش کرتا ہوں۔نجران کے نصاری صلى الله رسول کریم ہے سے بحث کے لئے آئے۔انہوں نے ایسے رنگ میں بحث کی کہ تاریخوں میں آتا ہے بے ادبی سے گفتگو کرتے رہے۔جب گفتگو کرتے کرتے اٹھ کر اس لئے جانے لگے کہ ان کی نماز کا وقت آ گیا تھا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہیں نماز ادا کر لو۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں ہی اپنی صلیبیں نکالیں اور انہیں سامنے رکھ کر عبادت کر لی 11۔آج دیکھو کس طرح مسجدوں اور مندروں کے متعلق لڑائیاں ہوتی ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ نے عیسائیوں سے کہا کہ مسجد میں اپنے طریق سے عبادت کر لو۔رسول کریم علیہ کے اسی اسوہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اعلان کیا تھا کہ لندن کی مسجد میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی آزادی کے ساتھ آنے کی اجازت ہے مگر بعض مسلمانوں نے اس بات کو پیش کر کے کہا یہ مسجد نہیں دھرم سالہ ہے۔غرض یہ عملی سلوک ہے غیر اقوام سے رسول کریم ﷺ کا کون کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ لوگوں کی جانیں لینے کے لئے اور ان پر ظلم کرنے کے لئے آئے تھے۔جو جانیں لینے کے لئے آیا کرتا ہے کیا وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی مسجد میں صلیبیں پوجنے کی اجازت دے سکتا ہے۔اور مسجد بھی وہ جس کے متعلق آپ نے اخِرُ الْمَسَاجِدِ 12 فرمایا اور جس میں نماز پڑھنے پر دیگر مساجد کی نسبت بہت زیادہ ثواب رکھا گیا ہے۔اس مسجد میں خدا تعالیٰ کے نبی کی موجودگی میں اور اس نبی کی موجودگی میں جو خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے کے لئے آیا ، نصاریٰ صلیبیں رکھ کر عبادت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کیا حرج ہے بے شک کر لو۔آج بڑے بڑے حوصلہ والوں کی بھی اتنی جرات نہیں کہ اپنی عبادت گاہوں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے دیں۔تیسری مثال یہ ہے کہ آپ ہمسایوں سے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں اچھا