سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 9
سيرة النبي علي 9 جلد 3 ہے کہ جس جلسہ کی تجویز ہے وہ محرم سے پہلے کر لیا جائے اور اس کے لئے 17 جون کا دن مقرر کیا جاتا ہے جبکہ اتوار ہو گا اور چھٹی ہونے کی وجہ سے اس دن کسی کے لئے جلسہ میں شامل ہونے میں رکاوٹ نہ ہوگی۔اور اگر محرم میں جلسہ ہونے کی وجہ سے کسی کے جذبات کو صدمہ پہنچ سکتا تھا تو اب اسے بھی صدمہ نہیں پہنچے گا اور وہ شامل ہو سکے گا۔چونکہ اس جلسہ کی غرض یہ ہے کہ سارے مسلمان مل کر ان لوگوں کو جو رسول کریم کی ذات پر بے ہودہ اعتراض کرتے ہیں یہ بتا دیں کہ ہم ایسے اعتراضوں سے بدظن نہیں ہوتے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کے والا و شیدا ہیں اس لئے تمام مسلمانوں کو ان جلسوں میں پوری کوشش سے شریک ہونا چاہئے اور انہیں کامیاب بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنا چاہئے۔پس آج ایک اعلان تو میں یہ کرتا ہوں کہ مجوزہ جلسے 20 جون کو نہیں بلکہ 17 جون کو ہوں گے۔اس بات کی اطلاع سب دوستوں کو دے دی جائے اور ہر جگہ یہ اعلان کر دیا جائے۔میں نے دفتر ڈاک میں بھی کہہ دیا ہے کہ ہر خط جو لکھا جائے اس میں یہ بھی لکھ دیا جائے کہ جلسہ 20 جون کی بجائے 17 جون کو ہوگا اور دوست بھی جہاں جہاں خط لکھیں یہ اطلاع دے دیں۔دوسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ ایسے جلسہ کے لئے کیوں نہیں رسول کریم نے کی پیدائش کا دن منتخب کیا گیا جب کہ اس دن پہلے سے مجالس میلاد منعقد کی جاتی ہیں۔میں اس سوال کا جواب پہلے بھی دے چکا ہوں مگر اب چونکہ یہ پھر اٹھایا گیا ہے اس لئے پھر دے دیتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ یہ جلسہ کوئی ہماری مذہبی تقریب نہیں ہے اگر بر ہماری مذہبی تقریب ہوتی تو اس کے لئے ہم سب فرقوں کے مسلمانوں کو دعوت نہ دیتے۔مثلاً جن لوگوں کے نزدیک نذریں نیازیں دینا مذہبی تقریب ہے وہ خود تو نیازیں دیں گے اور ان کی خوبیاں بیان کر کے دوسروں کو بھی ان کا قائل کرنے کی کوشش کریں گے مگر یہ نہیں ہوگا کہ کسی اہل حدیث مولوی صاحب کو دعوت دیں کہ آؤ ہماری نیاز میں شامل ہو جاؤ۔اسی طرح ہم مسلمان ہندوؤں یا دوسرے غیر مذاہب صلى الله