سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 8

سيرة النبي علي 8 جلد 3 اس بات کو مد نظر رکھ کر 20 جون کی تاریخ ایسے جلسوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔اس کے متعلق بعض کو یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ 20 جون کو محرم کی پہلی تاریخ ہوگی اور اس وجہ سے شیعہ اصحاب پورے طور پر اس تحریک میں حصہ نہ لے سکیں گے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ سوال سنیوں کے دل میں پیدا ہوا ہے شیعوں میں پیدا نہیں ہوا۔حالانکہ اس دن لیکچر دینے والوں میں کئی ایسے اصحاب نے اپنے نام لکھائے ہیں جو شیعہ ہیں اور کئی شیعہ اصحاب ایسے ہیں جنہوں نے نہ صرف لیکچر دینے کی ذمہ داری لی ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ جلسہ کو کامیاب بنانے کی پوری پوری کوشش کریں گے۔تو بظاہر حالات معلوم نہیں ہوتے کہ شیعہ اصحاب کو اس تاریخ سے اختلاف ہوا اور خصوصاً جس فرقہ کی بنیاد محبتِ رسول اور محبتِ آلِ رسول پر ہو اس کے متعلق سمجھ میں نہیں آتا اسے الله رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار سے اس لئے صدمہ پہنچے کہ اس دن محرم شروع ہوگا۔شیعہ اصحاب محرم میں جس بات سے صدمہ محسوس کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ لوگ ان دنوں میں خوشیاں منائیں۔مگر یہ جلسے نہ تو رسول کریم ﷺ کی پیدائش پر خوشی منانے کے لئے ہوں گے نہ اور کسی قسم کی خوشی کے اظہار کے لئے بلکہ یہ تو علمی جلسے ہوں گے اور ان میں رسول کریم علی کی حقیقی شان دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔آپ کی زندگی کے صحیح حالات سنائے جائیں گے۔اور ان دنوں میں شیعہ اصحاب کی طرف سے بھی یہ کوشش کی جاتی ہے کہ حضرت امام حسین اور دوسرے شہیدانِ کربلا کے حالات سے لوگوں کو واقف کریں۔گویا ان ایام میں وہ بھی اہل بیت کے تاریخی حالات کو تازہ کرتے اور لوگوں کو سناتے ہیں۔پھر جن کے ذریعہ اہل بیت کو ساری عزت اور توقیر حاصل ہوئی ان کا ذکر ہو تو اس پر شیعوں کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔لیکن ایک اور مشکل ضرور ہے اور وہ یہ کہ چونکہ محرم کے ایام میں بعض جگہ فساد ہو جاتا ہے اس لئے محرم کی ان تاریخوں میں گورنمنٹ کی طرف سے بعض جگہ جلسے وغیرہ کرنے کی ممانعت ہو جاتی ہے۔اس دقت کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب سمجھا گیا