سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 10

سيرة النبي علي 10 جلد 3 کے لوگوں کو اسلام کی خوبیاں بتائیں گے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں گے مگر کسی ہندو سے یہ نہ کہیں گے کہ آؤ ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو جاؤ کیونکہ جب تک عقیدہ نہ بدل جائے مذہبی تقریبوں میں شامل ہونے کے لئے نہیں کہا جا سکتا۔اسی طرح یہ ہماری کوئی مذہبی تقریب نہیں ہے بلکہ علمی تقریب ہے۔رسول کریم ﷺ کی شان اور رتبہ سے واقف کرنے کے لئے جلسے کئے جائیں گے اس لئے ضروری ہے کہ ایسا دن تجویز کیا جائے جس میں کسی کو اختلاف نہ ہو۔رسول کریم ﷺ کی پیدائش کے دن جو جلسے کئے جاتے ہیں بعض لوگوں کی روزی کا ان پر مدار ہے وہ اس موقع پر تقریریں کرتے ہیں اور لوگ انہیں کچھ دے دیتے ہیں۔اب اگر اس موقع پر اور لیکچرار تقریریں کریں گے تو ان لوگوں کی آمدنی میں فرق آ جائے گا۔ممکن ہے کہ ان میں ایسے مخلص ہوں جو رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار کے مقابلہ میں اپنی آمدنی کی پرواہ نہ کریں اور جو لوگ آپ کی شان کے متعلق تقریریں کرنا چاہیں ان کی تقریریں کرائیں مگر سارے کے سارے ایسے نہیں ہو سکتے اور اپنی آمدنی کے خیال سے مخالفت کریں گے اس وجہ سے وہ موقع مناسب نہیں سمجھا گیا۔پھر ان مجالس میں خاص خاص باتیں بیان کی جاتی ہیں اور ایسے معجزے بیان کئے جاتے ہیں جنہیں کئی محقق تسلیم نہیں کرتے اور ان باتوں سے ہندوؤں وغیرہ کو کوئی فائدہ بھی نہ ہو گا بلکہ الٹا نقصان ہو گا۔مثلاً اگر ان مجالس میں ایسی باتوں پر زور ہو کہ گوہ نے آکر رسول کریم ﷺ سے باتیں کیں، درختوں اور پتھروں نے آپ کو سجدہ کیا تو ان سے غیر مسلم لوگ کچھ فائدہ نہ اٹھائیں گے کیونکہ ان سے بڑھ کر باتیں ان کے ہاں موجود ہیں۔ان پر جن باتوں کا اثر ہو سکتا ہے وہ یہ ہیں کہ آپ کی ذات کیسی اعلی درجہ کی پاک تھی اور آپ نے کس طرح لوگوں کو پاک کیا۔آپ پر لوگوں نے کیا کیا زیادتیاں کیں اور آپ نے ان کے مقابلہ میں کیا کیا طریق اختیار کئے اور کس طرح تقویٰ پر قائم رہے۔آپ نے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لئے خود کیا کیا P