سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 179
سيرة النبي علي 179 جلد 3 ہیں اور ہر قوم کی ہدایت کے سامان خدا تعالیٰ کرتا رہا ہے۔اس بات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف سخت جھگڑا کرتے رہے ہیں۔لیکن اگر یہ سمجھ لیں کہ ہر قوم میں نبی اور مصلح آتے رہے ہیں تو ان میں یہ خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ سب کا ایک ہی خدا ہے گو اس کے نام مختلف رکھ لئے گئے ہیں۔اب تو ناموں کی وجہ سے بھی الگ الگ خدا سمجھے جاتے ہیں۔بچپن کا ایک واقعہ ابھی تک مجھے یاد ہے۔ایک لڑکے نے مجھ سے باتیں کرتے کرتے کہا ہندوؤں کا خدا کیسا خدا ہے۔میں نے کہا جو ہمارا خدا ہے وہی ان کا خدا ہے۔کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے ان کا خدا تو پر میشور ہے۔میں نے کہا خدا تو وہی ہے ہندوؤں نے نام اور رکھا ہوا ہے۔یہ سن کر وہ بڑا حیران ہوا۔دراصل بات وہی ہے جو مثنوی والے نے لکھی ہے۔انہوں نے لکھا ہے چار فقیر تھے جو مانگتے پھرتے تھے۔کسی نے انہیں ایک سکہ دے کر کہا جاؤ جو چیز کھانے کو جی چا ہے جا کر خرید لو۔ایک نے کہا ہم انگور لیں گے ، دوسرے نے کہا انگور نہیں عنب لیں گے، تیسرے نے کہا دا کھ لیں گے، چوتھے نے ترکی زبان کا ایک لفظ استعمال کیا کہ وہ لیں گے۔اس پر ان کا جھگڑا ہو گیا۔ہر ایک کہنے لگا جو چیز میں کہتا ہوں وہ خریدو۔وہ جھگڑ ہی رہے تھے کہ ایک شخص پاس سے گزرا۔اس نے پوچھا کیوں لڑتے ہو؟ ہر ایک نے اپنا قصہ سنایا۔وہ چاروں زبانیں جانتا تھا بات سمجھ گیا۔اس نے کہا آؤ میں سب کو اس کی پسند کی چیز خرید دیتا ہوں۔اس نے جا کر انگور خرید دیئے اور انہیں دیکھ کر سب خوش ہو گئے۔اسی طرح قوموں نے ایک ہی خدا کے نام تو اپنی اپنی زبان میں رکھے تھے لیکن حالت یہ ہوگئی کہ مختلف ناموں سے مختلف خدا سمجھے جانے لگے اور ہر قوم نے اپنا خدا علیحدہ قرار دے لیا اور یہ سمجھ لیا کہ خدا نے ہمارے لئے فلاں نبی یا ریشی بھیجا اور باقی سب لوگوں کو چھوڑ دیا۔مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا سب کے لئے خدا نے نبی بھیجے۔ان کے مختلف نام رکھ لینے سے ان میں فرق نہیں پڑ سکتا۔وہ سب بچے اور خدا کے