سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 180
سيرة النبي علي 180 جلد 3 صلى الله پیارے تھے۔غرض اس مسئلہ کو دنیا میں قائم کر کے رسول کریم علیہ نے تو حید کو مضبوط بنیاد پر قائم کر دیا۔دوسرا مسئلہ جس کا تعلق لوگوں نے مسئلہ توحید سے نہیں سمجھا لیکن وہ بھی نہایت گہرا تعلق رکھتا ہے وہ عالمگیر مذہب پیش کرنا ہے۔جب مختلف مذاہب کے لوگوں میں خرابیاں پیدا ہوگئیں اور وہ اپنے اپنے مذہب کی اصل تعلیم کو چھوڑ چکے تو ان میں سے ہر ایک نے یہ خیال کر لیا کہ ہماری قوم ہی ہدایت پاسکتی ہے اور کوئی قوم اس نعمت سے مستفیض نہیں ہو سکتی۔جب سب قومیں اپنی اپنی جگہ یہ مجھی بیٹھی تھیں اُس وقت رسول کریم نے یہ اعلان فرمایا کہ ساری دنیا کے لئے ہدایت پانے کا رستہ خدا تعالیٰ نے کھلا رکھا ہے۔چنانچہ اپنے مشن کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر آپ نے اعلان فرمایا کہ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمُ جَمِيعًا 4 یہ نہیں کہ ہدایت کا دروازه صرف عربوں کے لئے کھلا ہے باقی اقوام کے لئے نہیں۔مجھے خدا نے رسول بنا کر ساری دنیا کے لئے بھیجا ہے اور سب اقوام ہدایت پاسکتی ہیں۔اب غور کرو جب یہ خیال پیدا کیا جائے گا کہ سب کے لئے ہدایت کا دروازہ کھلا ہے تو سب کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی توحید کا عقیدہ جاگزیں ہو جائے گا۔لیکن اگر یہ خیال پیدا کیا جائے کہ صرف عربوں کے لئے ہدایت کا دروازہ کھلا ہے ہندوستانیوں کے لئے یا ایرانیوں کے لئے یا چینیوں کے لئے نہیں تو پھر یہ خیال پیدا ہوگا کہ ان کا خدا کوئی اور ہے، وہ خدا نہیں جو عربوں کا ہے۔پس عالمگیر مذہب پیش کرنے سے توحید کا بہت بڑا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور یہی خیال رسول کریم ﷺ نے آ کر پیدا کیا ہے۔آپ نے اعلان فرمایا مجھے خدا تعالیٰ نے ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔کسی قوم کا انسان ہو وہ میرے ذریعہ ہدایت پا سکتا ہے، روحانی مدارج طے کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔اس طرح آپ نے قومی خدا کا خیال مٹا دیا اور اس کی بجائے عالمگیر خدا پیش کیا جس سے اصل تو حید قائم ہوئی۔چنانچہ آپ کی بعثت کے بعد تمام دنیا کے