سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 178
سيرة النبي علي 178 جلد 3 نہیں بھیجے تو اس سے یہ بھی خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہما را خاص خدا ہے جو دوسروں کا خدا نہیں اور یہ خیال جب ہر ایک قوم میں پیدا ہو جائے گا تو دنیا میں قومی خداؤں کا احساس پایا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے متعلق یہ وسیع نظر یہ کہ ایک ہی خدا سب کا خالق ہے پیدا نہ ہوگا۔ہر قوم یہ محدود خیال رکھے گی کہ ایک ایسا خدا ہے جو ہماری قوم کا خدا ہے باقیوں کو اس نے چھوڑ رکھا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے متعلق محدود خیال پیدا ہوتا ہے۔حالانکہ جب ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم میں مصلح آئے۔ہندوؤں میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دوسروں کی بھلائی اور بہتری کی خاطر اپنے آپ پر مصائب کے پہاڑ گرا لئے ، تکالیف کے بھنور میں پڑ کر ڈوبتی ہوئی دنیا کو ترالیا۔اسی طرح ہم دیکھتے ہیں یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی ایسے انسان پیدا ہوئے جن کی زندگیاں خلق خدا کی خدمت کے لئے وقف تھیں۔دنیا کی اور اقوام میں بھی یہی بات نظر آتی ہے کہ جب جب ان کی دینی اور روحانی حالت خراب ہوئی، خدا کی طرف سے ان میں ایسے انسان پیدا کئے گئے جنہوں نے ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔پس جب سب اقوام میں ایک ہی قسم کے فساد کے وقت ایک ہی قسم کا علاج کیا گیا تو کیوں نہ مانا جائے کہ ایک ہی ہستی کی طرف سے یہ سارے انسان بھیجے گئے تھے اور جب یہ خیال کیا جائے تو کسی انسان کے ذہن میں قومی خدا کا تصور نہیں پیدا ہوتا بلکہ رَبُّ الْعَلَمِيْن کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔یہ سمجھنا کہ خدا کا ہماری قوم کے ساتھ ہی تعلق رہا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں رہا۔ہم میں جب خرابی پیدا ہوئی اُس وقت اس نے اپنا کوئی پیارا بھیج دیا مگر کسی اور قوم میں نہ بھیجا اس سے ایک قومی خدا کا تصور ذہن میں آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف اقوام اپنا اپنا خدا الگ سمجھتی اور کہتی ہیں ہمارا خدا ایسا ہے اور فلاں قوم کا خدا ایسا۔حتی کہ یہاں تک بھی لکھ دیا گیا کہ ہمارے خدا نے فلاں قوم کے خدا پر فتح پائی۔گویا اپنے جیتنے کو انہوں نے اپنے خدا کا دوسروں کے خدا پر جیتنا قرار دیا۔اس کی وجہ یہی ہے انہوں نے سمجھا نہیں کہ ہر قوم میں مصلح آتے