سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 7

سيرة النبي علي 7 جلد 3 والوں کو بھی شبہ پڑ جائے کہ ممکن ہے رسول کریم ﷺ کی ذات میں وہ نقص پائے جاتے ہوں جو آپ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں۔پس جس طرح اس وقت جبکہ صاف دن چڑھا ہوا ہے کوئی بادل وغیرہ نہیں اگر کوئی کہے کہ سورج نہیں چڑھا ہوا تو اسے کہا جائے گا آؤ دیکھو! سورج چڑھا ہوا ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ کی ذات والا صفات پر اعتراض کرنے والوں کو جواب دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ لوگوں کو آپ کے حالات پڑھنے اور ان سے صحیح طور پر واقف ہونے کی طرف مائل کیا جائے۔اس بات کو مدنظر رکھ کر یہ تجویز کی گئی ہے کہ اس سال کم از کم ایک ہزار آدمی ایسا تیار کیا جائے جوان دشمنانِ اسلام کو جو اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر اعتراض کرتے ہیں جواب دے سکے۔اور چونکہ ارادہ ہے کہ یہ تحریک جاری رکھی جائے اور امید ہے کہ اس میں ہر سال پہلے سال کی نسبت زیادہ لوگ شامل ہوتے رہیں گے اس لئے تھوڑے ہی عرصہ میں لاکھوں انسان مسلمانوں، ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے ایسے پیدا ہو سکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کی زندگی کے صحیح حالات سے کماحقہ واقفیت حاصل کریں اور بجائے اس کے کہ اعتراض کرنے والوں کو ہم جواب دیں وہ خود اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو جواب دینے لگ جائیں گے۔ایک تو یہ فائدہ اس تحریک سے مدنظر ہے۔دوسرے یہ فائدہ مدنظر ہے کہ جلسہ میں اگر اوسطاً پانچ سو آدمی بھی شریک ہوں اور ہم اس سال ایک ہزار جگہوں پر جلسے کرا سکیں تو ایک دن میں کم از کم پانچ لاکھ انسان رسول کریم ﷺ کی زندگی کے صحیح حالات سے واقف ہو سکتے ہیں۔اور اگر یہ تحریک جاری رہے تو پانچ دس سال کے اندر اندر مسلمانوں میں سے تو بہت بڑی تعداد میں مگر ہندوؤں، عیسائیوں ،سکھوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں سے بھی اس قدر لوگ واقف ہو جائیں گے کہ پھر حالات کو بگاڑ کر اعتراض کرنے کی کسی کو بہت کم جرات ہو سکے گی اور اگر کوئی اعتراض کرے گا بھی تو اس کے ہم مذہب ہی اس کی تردید کر دیں گے۔