سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 6
سيرة النبي عمر 6 جلد 3 کئی ایسے وجود ہوتے ہیں کہ ان کی ذات ہی ان کا ثبوت ہوتی ہے اور رسول کریم ﷺ کی ذات ستودہ صفات انہی وجودوں میں سے ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس وقت تک جو انسان صلى الله پیدا ہوئے یا آئندہ پیدا ہوں گے وہ سب کے سب رسول کریم ہے سے نیچے ہیں اور آپ سب پر فوقیت رکھتے ہیں۔ایسے انسان کی زندگی پر اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو اس کی زندگی کے حالات کو بگاڑ کر ہی کر سکتا ہے اور بگاڑے ہوئے حالات سے وہی متاثر ہوسکتا ہے جسے صحیح حالات کا علم نہ ہو۔مثلاً ہمیں معلوم ہو کہ زید یہاں بیٹھا ہے۔اب اگر بکر قسمیں کھا کھا کر کہے کہ وہ لاہور چلا گیا ہے تو ہم اس کی بات ہرگز نہ مانیں گے کیونکہ ہمیں علم ہے کہ زید لاہور نہیں گیا بلکہ اس مجلس میں بیٹھا ہے۔تو بگاڑے ہوئے حالات سے دھوکا وہی کھا سکتا ہے جسے صحیح علم نہ ہو۔رسول کریم ﷺ کی ذات پر اسی طرح حملے کئے جاتے ہیں۔ایسے حملوں کے دفاع کا بہترین طریق یہ نہیں ہے کہ ان کا جواب دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو توجہ دلائیں کہ وہ رسول کریم ﷺ کے حالات خود پڑھیں اور ان سے صحیح طور پر واقفیت حاصل کریں۔جب وہ آپ کے حالات پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ آپ کی ذات نور ہی نور ہے اور اس ذات پر اعتراض کرنے والا خود اندھا ہے۔دیکھو اگر کوئی اس وقت جب کہ سورج چڑھا ہوا ہے یہ کہے کہ مجھے سورج نظر نہیں آتا تو اسے یہ نہ کہیں گے کہ ممکن ہے سورج نہ چڑھا ہوا ہو اور ہمیں سورج کے چڑھنے میں شک نہیں پیدا ہو جائے گا بلکہ یہ کہیں گے کہ تو اندھا ہے اس لئے تمہیں سورج نظر نہیں آتا۔اگر کوئی یہاں بیٹھے ہوئے یہ کہے مجھے تو اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے تو کوئی آنکھوں والا اس شبہ میں نہیں پڑ جائے گا کہ سورج نہیں چڑھا ہوا۔بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ اس کی آنکھوں کو یک لخت ایسا صدمہ پہنچا ہے کہ وہ اندھا ہو گیا ہے۔اسی طرح جو شخص رسول کریم میے کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھے آپ کی زندگی کے حالات تاریک ہی تاریک نظر آتے ہیں تو اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اس کی آنکھیں نہیں رہیں۔جسمانی آنکھیں نہیں بلکہ روحانی آنکھیں۔یہ نہیں کہ اس کے کہنے پر آنکھوں