سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 139
سيرة النبي الله 139 جلد 3 کے لئے بخوشی تیار ہیں۔میں امید کرتا ہوں مذہب سے دلچسپی رکھنے اور خدا کے دین کو دنیا میں قائم کرنے والے خواہ وہ ہندو ہوں یا سکھ یا ہماری طرح مسلمان سب مل کر کوشش کریں گے کہ ان فسادات کو دور کیا جائے اور فتنہ کو مٹایا جائے جن بزرگوں کا ادب و احترام ضروری ہے ان کا مناسب احترام کیا جائے اور جو باتیں قوموں کے اخلاق بگاڑنے کا موجب ہوں ان کی پورے زور سے مذمت کی جائے۔گورنمنٹ کو بھی نصیحت کرتا ہوں گو معلوم نہیں وہ اسے قبول کرے گی یا نہیں یا اس پر کیا اثر ہو گا مگر میں اپنا فرض ادا کرتا ہو ا کہتا ہوں گورنمنٹ بھی عاجلہ کو چھوڑ دے۔اسی طرح لیڈروں سے بھی یہی کہتا ہوں کہ وہ بھی عاجلہ کو چھوڑ دیں۔قوموں کے معاملات دنوں میں طے نہیں ہوا کرتے۔جو لوگ اس خیال سے کہ حکومت جلد مل جائے ملک میں بغاوت کراتے ہیں وہ دیانت اور نیکی کی جڑ کو کاٹنے والے ہیں اور تینتیس کروڑ انسانوں کے قاتل ہیں۔اگر وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کی عزت کریں تو صحیح راستہ اختیار کریں فریب سے عزت نہیں کرائی جاسکتی۔دنیا آخر صحیح نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے اور ملامت کے قابل کی ملامت اور عزت کے مستحق کی عزت کرتی ہے۔“ (الفضل 19 اپریل 1929ء) 1: المنفقون: 9 66 2:بخارى كتاب التفسير باب يقولون لئن رجعنا الى المدينة صفحه 871 حديث نمبر 4907 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3: اسد الغابة في معرفة الصحابة الجزء الاول حذيفة بن اليمان صفحه 487 مطبوعہ بیروت 2006 ء الطبعة الاولى 4:بخاری کتاب احادیث الانبياء باب وفاة موسى ذكره بعد صفحہ 572 حدیث نمبر 2408 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية