سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 138

سيرة النبي م 138 جلد 3 ترقی کے لئے کام کیا خواہ کسی بڑے طبقہ میں یا ایک بہت ہی محدود طبقہ میں کیا ہو وہ قابل عزت ہیں اور انسانی فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی عزت کی جائے۔جو قوم ایسا نہ کرنے والوں کی مدد کرتی ہے وہ خود اپنی تباہی کا سامان پیدا کرتی ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور اپنی قوم کے دشمن ہیں اور جو اُن کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔میرے نزدیک تو اگر یہی شخص قاتل ہے جو گرفتار ہوا ہے تو اس کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں اب ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں چاہئے کہ خدا سے صلح کر لو۔اس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اسے بتا دیا جائے تم سے غلطی ہوئی۔ہم تمہارے جرم کو کم تو نہیں کر سکتے لیکن بوجہ اس کے کہ تم ہمارے بھائی ہو تمہیں مشورہ دیتے ہیں کہ تو بہ کرو، گریہ وزاری کرو اور خدا کے حضور گڑ گڑاؤ۔یہ احساس ہے جو اگر اس کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا کی سزا سے بچ سکتا ہے اور اصل سزا وہی ہے۔ہند و مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور یہی طریق قیام امن کا موجب ہو سکتا ہے اسی لئے میں نے ایسے جلسوں کی بنیاد رکھی تھی کہ تا رسول کریم ﷺ کی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کی جاسکیں۔اور اگر دوسری قو میں بھی اپنے مذہبی پیشواؤں کے متعلق ایسا انتظام کریں تو بشر طیکہ کوئی پولیٹیکل فائدہ ان کے مد نظر نہ ہو ہم ان میں بھی ضرور شامل ہوں گے۔ہمارا یہ سمجھ لینا کہ فلاں شخص خادم ملک و ملت تھا ہماری ہتک نہیں بلکہ یہ معنی رکھتا ہے کہ ہماری آنکھیں درست ہیں۔یہی طریق ہے جس سے مختلف اقوام میں صلح ہو سکتی ہے کہ جس کسی نے کوئی خدمت کی ہے اس کا اعزاز کیا جائے اسی لئے میں نے ان جلسوں کی تحریک کی تھی۔اور میں پھر کہتا ہوں کہ اگر ہندو اور سکھ بھی ایسا انتظام کریں اور وہ کسی سیاسی غرض سے نہ ہو تو ہم اس میں بھی ضرور حصہ لیں گے۔ہم جسے نیک کام سمجھتے ہیں اس میں حصہ لینے