سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 137
سيرة النبي علي 137 جلد 3 ایسے لوگوں کو قتل کر دینے کا حکم ہوتا تو حذیفہ کو چاہئے تھا تمام مسلمانوں کو بتا دیتے کہ فلاں فلاں لوگ منافق ہیں انہیں فوراً قتل کر دو کیونکہ اپنی قوم کا ہتک کرنے والا دوسروں سے بہت زیادہ مجرم ہوتا ہے۔ایک مرتبہ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ کے سامنے کہا میں قسم کھاتا ہوں موسی کی جسے خدا نے سارے انسانوں پر فضیلت دی ہے۔حضرت عمرؓ نے اسے مارا۔جب رسول کریم ﷺ کوخبر پہنچی تو آپ نے حضرت عمر سے کہا کہ کیوں مارا؟ ایسا نہیں چاہئے تھا 4۔یہ نہیں کہا کہ تلوار کیوں نہ چلائی۔غرض قتل پر صلى الله آمادہ ہو جانے کا طریق غلط ہے اور اس سے قوموں کے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں۔پس میں مسلمانوں سے بھی اور ہندوؤں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ عاجل باتوں کی طرف نہ جائیں۔مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ چاند پر تھوکنے سے اپنے ہی منہ پر آ کر تھوک پڑتا ہے۔مخالف خواہ کتنی ہی کوشش کریں محمد رسول اللہ ہے کے نور کو گردوغبار سے نہیں چھپا سکتے۔اس نور کی شعاعیں دور دور پھیل رہی ہیں۔تم یہ مت خیال کرو کہ کسی کے چھپانے سے یہ چھپ سکے گا۔ایک دنیا اسلام کی معتقد ہو رہی ہے۔پادریوں کی بڑی بڑی سوسائٹیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ اسلام سے ہے کیونکہ اسلام کی سوشل تعلیم کی خوبیوں کے مقابلہ میں اور کوئی مذہب نہیں ٹھہر سکتا ہے۔اسلام کا تمدن یورپ کو کھائے چلا جا رہا ہے اور بڑے بڑے متعصب اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام کو گالی دینے سے اسلام کی ہتک ہو گی وہ اگر عیسائی ہے تو عیسائی مذہب کا دشمن ہے، اگر سکھ ہے تو سکھ مذہب کا دشمن ہے اور اگر ہندو ہے تو ہندو دھرم کا دشمن۔ہتک تو دراصل گالی دینے والے کی ہوتی ہے جسے گالی دی جائے اس کی کیا ہتک ہو گی۔ہتک تو اخلاق کی بنا پر ہوتی ہے اگر کوئی شخص مجھے گالیاں دیتا ہے تو وہ اپنی بداخلاقی کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح خود اپنی ہتک کرتا ہے۔میں گالیاں سنتا ہوں اور برداشت کرتا ہوں تو اپنے بلند اخلاق کا اظہار کرتا ہوں جو میری عزت ہے۔وہ مذہبی لیڈر جنہوں نے قوموں کی