سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 136

سيرة النبي علي 136 جلد 3 کو قتل کیا گیا۔ہاں اگر کسی کے متعلق یہ شبہ ہوا کہ وہ غیر قوموں کو مسلمانوں پر چڑھا لائے گا اور سازشیں کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا تو یہ اور بات ہے۔صرف توہین رسول کے جرم میں کبھی کوئی ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا۔اگر ایسا کرنا جائز ہوتا تو عبد اللہ بن ابی بن سلول کو کیوں زندہ چھوڑ دیا جاتا حالانکہ اس نے عَلَى الْإِعْلان کہا تھا کہ لَيُخْرِجَنَ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ1 کہ میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں ( نَعُوذُ بِاللهِ) سب سے زیادہ ذلیل یعنی رسول کریم ﷺ کو نکال دوں گا۔محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس ایسی باتوں کی اطلاع بھی پہنچ جاتی تھی۔پھر صحابہ نے یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھیوں میں سے بعض کو قتل کر دیا جائے لیکن رسول کریم علیہ نے فرمایا نہیں ، لوگ کیا کہیں گے کہ محمد نے اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیا 2 اگر قتل جائز ہوتا تو وہ منافق جو آخری وقت تک مسلمانوں میں موجود رہے کس طرح زندہ رہ سکتے تھے۔قرآن کریم میں صاف طور پر بیان ہے کہ منافق لوگ ہتک و تضحیک کرتے اور ٹھٹول بازی سے کام لیتے تھے۔پس جب یہ ثابت ہے کہ ہتک کی جاتی تھی اور قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ بہت سی باتوں کا رسول کریم ﷺ کو علم بھی دیا جاتا تھا اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ایسے لوگوں کے نام بھی معلوم تھے۔چنانچہ صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایسے لوگوں کے نام حذیفہ بن الیمان کو بھی بتائے 3 حتی کہ صحابہ کا طریق تھا کہ رسول کریم ع کی وفات کے بعد جس شخص کا " جنازہ پڑھنے سے حذیفہ ا نکار کرتے وہ بھی انکار کر دیتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حذیفہ کو رسول کریم ﷺ نے منافقین کے نام بتا دیے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف الله یہ کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہی منافق موجود تھے بلکہ یہ بھی کہ آپ کی وفات کے بعد بھی تھے لیکن رسول کریم ﷺ کی ساری زندگی میں ان میں سے ایک شخص بھی قتل نہیں کیا گیا سوائے ان کے جن پر کوئی پولیٹیکل جرم ثابت ہو چکا ہو ، خالص تضحیک کرنے والا ایک شخص بھی قتل نہیں ہوا بلکہ صحابہ کے زمانہ میں بھی کوئی نہیں ہوا۔اگر الله