سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 135
سيرة النبي علي 135 جلد 3 کھانے سے یا کسی اور بات کے اُس نے آخری وقت میں اپنی ماں سے ملنے کی خواہش کی اُن افسروں نے جو وہاں متعین تھے خاص اثر محسوس کیا اور اُس کی ماں کو بلایا گیا۔جب وہ آئی تو اس نے کہا ذرا میرے قریب کر دو میں کان میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں۔جب قریب کیا گیا تو اُس نے اپنی ماں کا گلا کاٹ لیا۔لوگوں نے کہا کم بخت ! تو اس وقت میں بھی ایسے فعل سے باز نہ آیا جبکہ پھانسی پر لٹکنے لگا۔اس نے کہا میں پھانسی پر لٹکتا ہی اس کی وجہ سے ہوں۔بچپن میں جب میں چوری کیا کرتا تو یہ ماں میری پیٹھ ٹھونکا کرتی تھی۔اگر یہ ایسا نہ کرتی تو عادی چور ہو کر آج میں اس نتیجہ کو نہ پہنچتا۔اسی طرح مجرموں کی خواہ انہوں نے ہتک انبیاء کا جرم کیا ہو خواہ قتل کا، جو لیڈر پیٹھ ٹھونکتے ہیں وہ خود مجرم ہیں۔قاتل ، ڈاکو اور وہ خبیث الفطرت اور گندے لوگ جو انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں ہرگز اس قابل نہیں کہ ان کی تعریف کی جائے۔ان کی قوم اگر اپنے اندر دینداری، تقوی اور اخلاق رکھنے کی مدعی ہے تو اس کا فرض ہے کہ ایسے افعال کی پورے زور کے ساتھ مذمت کرے۔اسی طرح اس قوم کا جس کے جو شیلے آدمی قتل کرتے ہیں خواہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے ہی وہ ایسا کریں فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ ایسے لوگوں کو دبائے اور ان سے اظہارِ براءت کرے۔انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔وہ نبی بھی کیسا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لئے خون سے ہاتھ رنگنے پڑیں ، جس کے بچانے کے لئے اپنا دین تباہ کرنا پڑے۔یہ سمجھنا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے سخت نادانی ہے۔کیا محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت اتنی ہی ہے کہ ایک شخص کے خون سے اس کی ہتک دھوئی جا سکے؟ بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی سزا قتل ہے۔میں کہتا ہوں تاریخ سے کوئی ایک مثال ہی ایسی پیش کی جائے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کسی ایک انسان کو بھی محض آپ کو برا کہنے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو اور اُس قتل میں کسی پولیٹیکل جرم کا دخل نہ ہو۔کوئی ثابت کرے کہ محض اس جرم میں کسی