سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 100
سيرة النبي عمال 100 جلد 3 سب باتیں ایسی ہیں جو آرام کی قربانی سے تعلق رکھتی ہیں۔رشتہ داروں کی قربانی آپ ﷺ کس طرح رشتہ داروں کی قربانی کے لئے تیار رہتے تھے اس کی مثال کے طور پر ایک تو اس واقعہ کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت نے چوری کی۔وہ ایک بڑے خاندان سے تھی۔لوگوں نے اس کی سفارش کی۔آپ اس پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ انصاف اور عدل کی خاطر میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔اگر فاطمہ میری بیٹی سے بھی ایسا فعل سرزد ہو تو اسے بھی سزا دی جائے گی12۔یہ واقعہ تو آپ کے قلبی خیالات پر دلالت کرتا ہے مگر عملی ثبوت بھی کثرت سے ملتے ہیں۔مثلاً یہ کہ باوجود اس کے کہ صحابہ آپ کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار تھے آپ خطرناک سے خطرناک مقامات پر اپنے رشتہ داروں کو بھیجتے تھے۔چنانچہ حضرت علیؓ کو ہر میدان میں آگے رکھتے ، اسی طرح حضرت حمزہ کو۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائیوں میں آپ کے عزیز ترین رشتہ دار مارے گئے۔چنانچہ حضرت حمزہ احد کی لڑائی میں اور حضرت جعفر شام کے سریہ میں مارے گئے۔اول الذکر آپ کے چچا اور ثانی الذکر آپ کے چا زاد بھائی تھے۔جان کی قربانی جان کی قربانی بھی بہت بڑی قربانی ہے حتی کہ بعض لوگ غلطی سے صرف اسی قربانی کو قربانی سمجھ بیٹھے ہیں۔آپ نے اس قربانی کو بھی خدا تعالیٰ اور بنی نوع انسان کے لئے پیش کیا۔اشاعتِ حق کے لئے ہر خطرہ کو برداشت کیا۔چنانچہ مکہ میں آپ پر اشاعت توحید کی وجہ سے مکہ والوں نے سخت سے سخت ظلم کیا اور آپ کے مارنے پر انعامات مقرر کئے مگر آپ نے ذرہ بھر بھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی بلکہ ہمیشہ جان کے خطرہ سے استغنا کیا۔چنانچہ آپ بے دھڑک ہو کر سخت سے سخت دشمنوں کے پاس تبلیغ کے لئے چلے جاتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ تن تنہا طائف تبلیغ کے لئے چلے گئے حالانکہ طائف ان لوگوں کے اثر کے نیچے تھا جو آپ کے سخت دشمن تھے۔وہاں جا کر تبلیغ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے رؤسا