سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 101
سيرة النبي عمال 101 جلد 3 نے آپ کے پیچھے لڑکوں اور کتوں کو لگا دیا جو آپ پر پتھر پھینکتے تھے اور آپ کو کاٹتے تھے۔وہ کئی میل تک آپ کا تعاقب کرتے آئے اور آپ پر اس قدر پتھر پڑے کہ آپ کا سب جسم لہولہان ہو گیا اور جوتیوں میں خون بھر گیا۔آپ بعض دفعہ زخموں کی تکلیف اور خون کے بہنے کی وجہ سے گر جاتے تھے تو وہ کم بخت آپ کے بازو پکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے تھے اور پھر مارنے لگتے 73۔اسی طرح ایک دفعہ رات کے وقت شور پڑا اور سمجھا گیا کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔صحابہ اس شور کو سن کر گھروں سے نکل کر ایک جگہ جمع ہونے لگے کہ تا تحقیق کریں که شور کیسا ہے۔اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ گھوڑے پر چڑھے ہوئے جنگل سے واپس آ رہے ہیں اور معلوم ہوا کہ آپ تن تنہا شور کی وجہ دریافت کرنے کے صلى الله لئے چلے گئے تھے تا ایسا نہ ہو کہ دشمن اچانک مدینہ پر حملہ کر دے74۔ایک اور مثال جان کی قربانی کی غزوہ حنین کا واقعہ ہے۔غزوہ حنین میں بہت سے ایسے لوگ شامل تھے جو ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے۔فتح مکہ کے بعد قومی جوش کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے۔ہوازن کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر وہ لوگ پسپا ہو گئے اور ان کے بھاگنے سے صحابہ کی سواریاں بھی بھاگ پڑیں اور چار ہزار دشمن کے مقابلہ میں صرف رسول کریم ﷺ اور بارہ صحابی رہ گئے۔اُس وقت چاروں طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی اور وہاں کھڑے رہنے والوں کے مارے جانے کا سو فیصدی احتمال تھا۔صحابہ نے چاہا کہ رسول کریم علیہ کو واپس لوٹائیں اور حضرت ابو بکر اور حضرت عباس نے گھوڑے کی باگ پکڑ کر واپس کرنا چاہا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ باگ چھوڑ دو اور بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھ گئے اور فرمایا اَنَا النَّبِيُّ لَا گذب 75 میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں۔یعنی اس صورت میں میں اپنی جان کی کیا پرواہ کرسکتا ہوں۔اُحد کی جنگ میں ایک بہت بڑا دشمن آپ پر حملہ کرنے کے لئے آیا۔چونکہ وہ صلى الله