سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 99
سيرة النبي عليه 99 99 جلد 3 اور آپ اسے چھوڑنا نہ چاہتے تھے۔مگر آپ نے خدا کے لئے اس کی بھی قربانی کی۔آپ کو وطن سے جو محبت تھی اس کا پتہ اس سے ملتا ہے کہ جب آپ وطن چھوڑ نے لگے تو آپ کو اس کا بہت صدمہ ہوا اور آپ نے درد ناک الفاظ میں مکہ کی طرف دیکھ کر اسے مخاطب کر کے کہا کہ اے مکہ! مجھے تو بہت ہی پیارا ہے مگر افسوس کہ تیرے رہنے والے مجھے یہاں نہیں رہنے دیتے 71۔یہ تو وطن کی وہ قربانی تھی جو آپ نے مجبوری کی حالت میں کی۔مگر اس کے بعد آپ نے وطن کی ایسی شاندار قربانی کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔مکہ سے نکالے جانے کے آٹھ سال بعد آپ پھر مکہ کی طرف واپس آئے اور اس دفعہ آپ کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔مکہ کے لوگ آپ کا مقابلہ نہ کر سکے اور مکہ آپ کے ہاتھوں پر فتح ہوا۔اور آپ اسی مکہ میں جس میں سے صرف ایک ہمراہی کے ساتھ آپ کو افسردگی سے نکلنا پڑا تھا ایک فاتح جرنیل کی صورت میں داخل ہوئے۔وہ لوگ جو آپ کو نکالنے والے تھے یا مارے جاچکے تھے یا اطاعت قبول کر چکے تھے اور مکہ آپ کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے ایک مضطرب ماں کی طرح تڑپ رہا تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ آپ کو اس شہر سے بہت محبت تھی اور وہاں خانہ کعبہ تھا آپ نے اسلام کی خاطر اور اس قوم کی خاطر جس نے تکلیف کے وقت آپ کو جگہ دی تھی اس کا دل رکھنے کے لئے مکہ کی رہائش کا خیال نہ کیا اور واپس مدینہ تشریف لے گئے۔یہ آپ کی وطن کی دوسری قربانی تھی۔آرام کی قربانی آپ نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں اور ساری عمر اٹھا ئیں۔ملکہ میں تو کفار دکھ دیتے ہی رہے مگر مدینہ میں بھی منافقوں نے آرام نہ لینے دیا۔علاوہ ازیں آپ سارا سارا دن اور آدھی آدھی رات تک کام میں لگے رہتے تھے۔راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتے۔اس طرح آپ نے اپنی آسائش اور آرام کو قربان کر دیا۔آپ نے نہ اچھے کپڑے پہنے، نہ اچھے کھانے کھائے۔عورتوں نے مال کا مطالبہ کیا تو انہیں جواب دیا میری زندگی میں تو تمہیں مال نہیں مل سکتا۔یہ