سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 98
سيرة النبي علي 98 98 جلد 3 دینے کے لئے تیار ہو گئے۔مگر آپ نے فرمایا اسے کچھ مت کہو کیونکہ میں نے اس کا قرض دینا تھا اور اس کا حق تھا کہ مجھ سے مطالبہ کرتا 68 جس وقت کا یہ واقعہ ہے اُس وقت آپ مدینہ اور اس کے گرد کے بہت سے علاقہ کے بادشاہ ہو چکے تھے اور ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس حالت میں آپ کا اس یہودی کی سختی برداشت کرنا عزت کی کس قدر عظیم الشان قربانی تھا۔چنانچہ اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ یہودی مسلمان ہو گیا۔چوتھی مثال اس قسم کی قربانی کی یہ ہے کہ آپ نے اپنے خاندان کے لوگوں کو کئی دفعہ ایسے آدمیوں کے ماتحت کیا جو خاندانی لحاظ سے ادنیٰ تھے۔چنانچہ زید بن حارثہؓ جو آپ کے آزاد کردہ غلام تھے ان کے ماتحت آپ نے حضرت علیؓ کے بھائی حضرت جعفر طیار کو ایک فوج میں بھیجا 69۔اسی طرح ابو لہب کے دو بیٹوں سے آپ کی دو بیٹیاں بیاہی ہوئی تھیں۔اس نے دھمکی دی کہ اگر آپ توحید کی تعلیم ترک نہ کریں گے تو میں اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوا دوں گا مگر آپ نے پرواہ نہ کی اور اس بدبخت نے اپنے بیٹوں سے کہہ کر آپ کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دلوا دی70۔اوپر کی مثالوں کے علاوہ مکہ میں آپ پر غلاظت ڈالی جاتی، منہ پر تھو کا جاتا، تھپڑ مارے جاتے ، آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر کھینچا جاتا اور ہر طرح ہتک کرنے کی کوشش کی جاتی مگر آپ یہ سب باتیں برداشت کرتے کہ خدا تعالیٰ کے نام کی عزت ہو۔آپ مکہ میں صادق اور امین کہلاتے تھے۔اپنی قوم کی ترقی کا بیڑا اٹھانے کے بعد آپ کا نام کا ذب اور جاہ طلب رکھا گیا۔پہلی عزت سب مٹ گئی۔پہلا ادب نفرت اور حقارت سے بدل گیا۔مگر آپ نے یہ سب کچھ برداشت کیا تا کہ دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم ہو اور دنیا جہالت اور تو ہم پرستی سے آزاد ہو۔وطن کی قربانی دین ہر ایک کے لئے ایک عزیز چیز ہوتی ہے۔لوگ اس کے لئے وطن اپنی جانیں لڑا دیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو بھی اپنا وطن عزیز تھا