سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 92
سيرة النبي علي 92 جلد 3 ہوئی اور صحابہ نے دیکھا کہ آپ کبھی ایک کروٹ بدلتے ہیں کبھی دوسری اور انہوں نے سمجھ لیا کہ آپ کی اس بے چینی کا باعث حضرت عباس کا کراہنا ہے تو انہوں نے چپکے سے حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیں۔تھوڑی دیر کے بعد جب آپ کو ان کے کراہنے کی آواز نہ آئی تو آپ نے پوچھا کہ عباس کو کیا ہوا ہے کہ ان کے کراہنے کی آواز نہیں آتی؟ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ کی تکلیف کو دیکھ کر ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی ہیں۔آپ نے فرمایا یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دو یا ان کی بھی سخت کر دو 59۔یہ قربانی کیسی شاندار ہے۔حضرت عباس آپ کے چا تھے اور محبت کرنے والے چچا۔لیکن آپ نے پسند نہ فرمایا کہ ان کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں اور دوسرے قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی نہ کی جائیں کیونکہ آپ جانتے تھے کہ جس طرح وہ میرے رشتہ دار ہیں اسی طرح دوسرے قیدی دوسرے صحابہؓ کے رشتہ دار ہیں اور ان کے دلوں کو بھی وہی تکلیف ہے جو میرے دل کو۔پس آپ نے اپنے لئے تکلیف کو برداشت کیا تا کہ انصاف اور عدل کا قانون نہ ٹوٹے اور اُس وقت تک حضرت عباس کو آرام پہنچانے کی اجازت نہ دی جب تک دوسرے قیدیوں کے آرام کی بھی ضرورت نہ پیدا ہو جائے۔آپ کی جذبات کی قربانیوں کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ مخالفین آ۔کے چچا ابو طالب کے پاس آئے اور آ کر کہا کہ اب بات برداشت سے بڑھ گئی ہے تم اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ کہ وہ یہ تو بے شک کہا کرے کہ ایک خدا کو پو جومگر یہ نہ کہا کرے کہ ہمارے بتوں میں کوئی طاقت بھی نہیں ہے۔اگر تم اسے نہ روکو گے تو ہم پھر تم سے بھی مقابلہ کرنے کو تیار ہوں گے اور ہر طرح کا نقصان پہنچائیں گے۔یہ وقت ان کے لئے بڑی مصیبت کا وقت تھا۔انہوں نے رسول کریم علی کو بلایا اور خیال کیا کہ میرے ان پر بڑے احسان ہیں یہ میری بات ضرور مان جائیں گے۔جب آپ آئے تو انہوں نے کہا اب لوگ بہت جوش میں آگئے ہیں اور وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ تمہاری وجہ