سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 93

سيرة النبي علي 93 جلد 3 سے مجھے اور میرے سب رشتہ داروں کو تکلیف پہنچائیں گے۔کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ تم بتوں کے خلاف وعظ کرنے سے رک جاؤ تا کہ ہم لوگ ان کی مخالفت سے محفوظ رہیں؟ اب غور کرو کہ ایک ایسا شخص جس نے بچپن سے پالا ہو، پھر چاہو اور محسن چا ہو اس کی بات کو جو اس نے سخت تکلیف کی حالت میں کہی ہو رد کرنے سے احساسات کو کس قدر ٹھیں اور صدمہ پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ قدرتأ رسول کریم ﷺ کو بھی اس مصیبت سے صدمہ پہنچا۔ایک طرف ایک زبر دست صداقت کی حمایت دوسری طرف اپنے محسنوں کی جان کی قربانی۔ان متضاد تقاضوں کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔لیکن آپ نے فرمایا کہ اے چا! میں آپ کے لئے ہر ایک تکلیف اٹھا سکتا ہوں مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ میں خدا تعالیٰ کی توحید کا وعظ اور شرک کی مذمتوں کا وعظ چھوڑ دوں۔پس آپ بے شک مجھ سے علیحدہ ہو جائیں اور مجھے اپنے حال پر چھوڑ دیں۔کوئی اور ہوتا تو یہ سمجھتا کہ دیکھو میں نے اس پر اس قدر احسان کئے ہیں مگر باوجود اس کے یہ میری بات نہیں مانتا۔مگر ابوطالب رسول کریم ﷺ کے دل کو جانتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ آپ اس قدر احسان کی قدر کرنے والے ہیں کہ اس وقت میری بات کو رد کرنا ان کے اخلاق کے لحاظ سے ایک بہت بڑی قربانی ہے اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ اپنے نفس کے لئے نہیں ہے بلکہ صرف اپنی قوم کی بہتری اور اسے گمراہی سے نکالنے کے لئے ہے۔پس وہ بھی آپ کی اس قربانی سے متاثر ہوئے اور بے اختیار ہو کر کہا کہ میرے بھتیجے ! تو جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے جا! اور اپنا کام کر۔میں اور میرے دوسرے رشتہ دار تیرے ساتھ ہیں اور تیرے ساتھ مل کر ہر ایک تکلیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں 60۔رشتہ داروں کے جذبات کی قربانی یہ قربانی اپنے جذبات کی قربانی سے بھی مشکل ہوتی ہے۔لوگ اپنے جذبات تو مار سکتے ہیں لیکن اپنے عزیزوں کے جذبات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کئی