سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 91
سيرة النبي عمال 91 جلد 3 اس لئے شادی کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت خدمت مخلوق میں لگا سکے۔اس سے بڑھ کر شہوات کی قربانی اور کیا ہو سکتی ہے۔پھر جوانی کی عمر میں تو آپ نے ادھیڑ عمر کی عورت سے اس لئے شادی کی کہ وہ آپ کے سارے وقت پر قابو نہ پالے اور جب آپ ادھیڑ عمر کو پہنچے اور آپ نے دیکھا کہ اب عورتوں کی ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے جو آپ سے مذہبی طور پر ا خلاص رکھتی ہے اور آپ کے ساتھ مل کر ہر قسم کی مذہبی قربانی کے لئے تیار رہے گی تو اُس وقت اس نیت سے کہ شریعت کے مختلف مسائل کو قوم میں رائج کر سکیں آپ نے کئی جوان عورتوں سے شادی کی اور اس بوجھ کو اٹھایا جو نو جوانوں کی بھی کمر توڑ دیتا ہے۔گو یا دونوں زمانوں میں جوانی میں بھی اور ادھیڑ عمر میں بھی آپ نے شہوات کی قربانی کی کیونکہ عائشہ کی شادی کے بعد دوسری عورتوں سے شادی ایک زبردست قربانی تھی۔(2) جذبات کی قربانی آپ نے مختلف اوقات میں اپنے جذبات کی بھی قربانی کی ہے۔چنانچہ اس کی ایک مثال وہ قربانی ہے جسے آپ نے عدل و انصاف کے قیام کے لئے پیش کیا۔تاریخ میں آتا ہے کہ جنگ بدر میں آپ کے چچا عباس قید ہو گئے۔حضرت عباس دل سے مسلمان تھے اور ہمیشہ حضرت کی مدد کیا کرتے تھے اور مکہ سے دشمنوں کی خبریں بھی بھیجا کرتے تھے۔مگر کفار کے زور دینے پر ان کے ساتھ مل کر بدر کی جنگ میں شریک ہوئے۔قید ہونے پر اور دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہی انہیں بھی رسیوں سے باندھ کر رکھا گیا۔چونکہ مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور اُس زمانہ کے لحاظ سے ایسے سامان نہیں تھے کہ قیدیوں کے بھاگنے کی روک کی جا سکے اس لئے رسیاں خوب مضبوطی سے باندھی گئیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عباس جو نہایت ناز و نعم میں پلے ہوئے تھے اور امیر آدمی تھے اس تکلیف۔کی تاب نہ لا سکے اور کراہنے لگے۔ان کی آواز سن کر رسول کریم له کوسخت تکلیف