سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 73

سيرة النبي عالم 73 جلد 2 رحمة للعالمين مع الله حضرت مصلح موعود نے 27 اکتوبر 1920ء کو چاند گرہن کے موقع پر بعد نماز مغرب قادیان میں تقریر فرمائی جو کہ الفضل 4 نومبر 1920 ء کے شمارہ میں شائع ہوئی۔اس میں آپ نے رسول کریم ﷺ کے اسوہ کے متعلق فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کے متعلق فرمایا ہے فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ 1 کہ مومن کو خوف اور حزن نہیں ہوتا۔لیکن کیا سمجھتے ہو کہ مومنوں کو رنج ، تکلیف اور دکھ نہیں ہوتا جس طرح اور وں کو ہوتا ہے؟ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ان کو ہوتا ہے کیونکہ دوسروں کو صرف اپنا ہی درد دکھ ہوتا ہے لیکن مومنوں کو سب کا ہوتا ہے۔کسی شاعر نے کہا ہے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے اس نے تو شاعرانہ طور پر کہا ہے مگر مومن اور سچے مومن کے دل میں فی الواقعہ سارے جہان کا درد ہوتا ہے اور اس مصرعہ کا پورا پورا مصداق ہوتا ہے۔دنیا میں کہیں کچھ ہو مومن کو اس کا صدمہ پہنچتا ہے۔کیونکہ وہ انسان کو انسان کی حیثیت سے نہیں دیکھتا، حیوانات کو حیوانات کی حیثیت میں نہیں دیکھتا ، نباتات کو نباتات کی حیثیت سے نہیں دیکھتا، جمادات کو جمادات کی حیثیت سے نہیں دیکھتا، زمین کو زمین کی حیثیت سے نہیں دیکھتا ، آسمان کو آسمان کی حیثیت سے نہیں دیکھتا، چاند کو چاند کی حیثیت سے اور سورج کو سورج کی حیثیت سے نہیں دیکھتا بلکہ دنیا کی ہر چیز کو اپنے رب کی علامت دیکھتا اور ہر ایک چیز میں اسے خدا کا جلوہ نظر آتا ہے اور سب کے ساتھ