سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 74
سيرة النبي ع 74 جلد 2 اپنے آپ کو وابستہ پاتا ہے۔اور جتنا ایمان میں ترقی کرتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا درد بڑھتا جاتا ہے۔وہ تمام دنیا کو اور دنیا کے ذرے ذرے کو ، چاند اور سورج کو دیکھتا اور ان سے لذت حاصل کرتا ہے حتی کہ ہر انسان خواہ کافر ہی ہو اور اس کو مار رہا ہو اس میں بھی اپنے خدا کا نشان دیکھتا اور محظوظ ہوتا ہے۔اس سے بھی اس کے دل میں خدا کی محبت کا جذبہ موجزن ہوتا اور خدا کی صنعت دیکھ کر شکر بجا لاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء ہر چیز کو دیکھ کر خدا کی حمد اور تعریف کرتے ہیں۔زمین میں، آسمان میں اور ہر چھوٹی سے چھوٹی اور ادنیٰ سے ادنی چیز میں ان کو خوبصورتی نظر آتی ہے اور جیسی ہمدردی دنیا کی ان کے دل میں ہوتی ہے اور کسی کے دل میں نہیں ہوتی۔انسان تو انسان حیوانوں کی تکلیف کو دیکھ کر بھی کڑھتے اور درد محسوس کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ گدھے کے منہ پر نشان دیکھ کر بہت سخت بددعا کی اور فر مایا ایسا نہیں کرنا چاہئے اور اگر نشان لگانا ہو تو پیٹھ پر لگانا چاہئے 2۔پھر حیوانوں کی تکلیف کے متعلق فرمایا کہ ان کو نہیں دینی چاہئے۔اور شریعت میں رکھا کہ ایک جانور کو ذبح کرتے وقت دوسرے کو سامنے نہ رکھنا چاہئے تا کہ وہ تکلیف محسوس نہ کرے۔اور پھر فرما یا جانور کو باندھ کر نشانہ نہیں لگانا چاہئے۔تو باوجود اس کے کہ آپ انسانوں کے لئے نبی تھے مگر چونکہ رحمۃ للعالمین تھے اس لئے جانوروں کے متعلق بھی ہدایات دیں کہ ان کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے۔تو مومن کے دل میں ہر ایک کا دکھ اور درد ہوتا ہے اور اگر اس کو کوئی پتھر بھی مارتا ہے تو گو اس کے جسم کو دکھ پہنچتا ہے مگر اس کا دل اس میں بھی راحت محسوس کرتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ مارنے والا بھی میرے رب ہی کی مخلوق ہے اور اگر چہ وہ شرارت سے مارتا ہے لیکن اگر نہ مارتا تو اس موقع پر صبر کر کے میں نے جو ثواب حاصل کیا ہے وہ حاصل نہ کر سکتا۔رسول کریم مع طائف میں گئے اور لوگوں نے آپ کو پتھر مارے۔اُس وقت فرشتہ آیا اور اس نے کہا اگر کہیں تو میں اس زمین کا تختہ الٹ دوں۔آپ نے فرمایا