سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 41
سيرة النبي الله 41 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت حضرت مصلح موعود نے بریڈ لاء ہال لاہور میں 15 فروری 1920ء کو ایک تقریر کیا دنیا کے امن کی بنیاد عیسائیت پر رکھی جاسکتی ہے“ کے عنوان سے فرمائی۔اس میں آپ نے صحابہ کرام کے اندر جرات، اخلاص اور دلیری جو کہ رسول کریم ﷺ نے ان کے اندر پیدا کی تھی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔”دنیا کی جو عمر اس وقت کے موجودہ علوم کے رو سے تجویز کی گئی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ابھی کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا صرف تیرہ سو سال ہوئے ہیں کہ عرب کے ملک میں جو دنیا کے تمام آرام و آرائش کے سامانوں سے معرا اور خالی تھا ایک ایسا شخص پیدا ہوا جو ظاہری علوم کے لحاظ سے اپنا نام لکھنا بھی نہ جانتا تھا۔اس پر خدائے ذوالجلال نے اپنا جلوہ ڈالا اور اس کے منہ سے ایک آواز بلند کروائی اور دنیا کو اس کے ذریعہ اپنی محبت اور پیار کی اطلاع دی۔وہ شخص اور اس کی پیدا کی ہوئی جماعت کیسی تھی اور کن امنگوں کو لے کر اٹھی تھی ، اس کی ہمت کتنی بلند تھی اور اس کے حوصلے کس قدر وسیع اور کتنے بڑھے ہوئے تھے اس کا پتہ اس چھوٹے سے معاملہ سے لگ سکتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو فرمایا کہ مردم شماری کرو کہ مسلمان کتنے ہیں۔چونکہ اسلام کا ابتدائی زمانہ تھا اس لئے بہت کم لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے جو چند سو سے زیادہ نہ تھے۔مگر وہ ہمت اور جرأت، وہ اخلاص اور دلیری جو محمد ﷺ نے اپنے پیروؤس میں ڈال دی تھی اور وہ امنگیں اور آرزوئیں جو ان کے دلوں میں موجزن تھیں وہ معمولی نہ تھیں۔چنانچہ جب رسول کریم ﷺ نے فرمایا