سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 42
سيرة النبي عالي 42 جلد 2 کہ مسلمانوں کی مردم شماری کرو اور کی گئی تو کل سات سو مسلمان نکلے۔تاریخ میں آتا ہے کہ گل سات سو مسلمان جو اس زمانہ کی طاقتوں کا لحاظ کر کے اتنے قلیل تھے کہ ان کو ایک جماعت کہنا بھی مشکل تھا ان کے حو صلے اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ایک صحابی نے رسول کریم ﷺ کو کہا کہ یہ جو آپ نے مردم شماری کرائی ہے اور ہم سات سو نکلے ہیں کیا اب بھی آپ کو خطرہ ہے کہ ہمیں دنیا مٹا سکتی ہے اور ہم دنیا سے مٹ سکتے ہیں 1۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ساری دنیا کو روحانی طور پر فتح کرنے والوں کی یہ تعداد تھی مگر ان کی ہمت اور جرات اتنی بلند تھی کہ کہتے ہیں کہ کیا ہم سات سو ہو کر دنیا سے مٹ سکتے ہیں اور اتنی تعداد کو دنیا مٹا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔دراصل یہ وہ تعداد نہیں بول رہی تھی اور یہ آواز اس تعداد کی طرف سے نہیں آ رہی تھی اس بات کو کوئی عقل مند تسلیم نہیں کر سکتا یہ وہ ایمان، وہ یقین اور وہ اخلاص بول رہا تھا جو ان کے دلوں میں تھا اور اس اخلاص کو لے کر جب وہ اٹھے اور اس ہمت بلند کے ساتھ اٹھے تو تمام دنیا میں پھیل گئے اور کوئی روک ان کے راستہ میں رکاوٹ نہ ڈال سکی۔“ غیر مطبوعہ تقریر فرموده 15 فروری 1920 ء از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) :1 مسلم کتاب الایمان باب جواز الاستسرار بالایمان صفحه 75 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية